چندے سے نئے ڈیمز کی تعمیر اور حقائق

پاکستان میں ایک با رپھر نئے ڈیمز بنانے کی مہم زو ر و شور سے شروع ہو چکی ہے، چیف جسٹس پاکستان کے بعد اب وزیر اعظم عمران خان نے بھی لنگوٹ کس لیا، تارکین وطن سمیت پوری قوم سے ڈیم فنڈ میں عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے، وزیر اعظم کی تقریر کے بعد ہی تحریک انصاف کے حامیوں اور مخالفین نے تلواریں میان سے نکال لیں، کھلاڑی یہ ثابت کرنے پر تلے ہیں کہ عمران خان ہرصورت چندے سے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے جبکہ اپوزیشن اسے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیرحقیقت پسندانہ کوشش قرار دے رہی ہے۔ کیا وزیر اعظم عمران خان ورلڈ کپ جیتنے، شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے عوامی فلاح کے منصوبوں کی تکمیل کے بعد صرف عوامی تائید سے یہ معرکہ بھی سر کر لیں گے؟ اس پر حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے اعداد وشمار کیساتھ مکمل زمینی حقائق جاننا ضروری ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان پانی کے سنگین بحران سے دو چار ہوچکا ہے اور ہماری آنکھ بہت تاخیر سے کھلی۔ ملک میں اس وقت پانی کے صرف 185 ذخائر ہیں جن میں تربیلا اور منگلا محض دو ہی بڑے ڈیم ہیں۔ پڑوسی ممالک سے تقابلی جائزہ لیں تو بھارت کے پاس 5 ہزار جبکہ چین کے پاس 84 ہزار آبی ذخائر موجود ہیں، چین میں بڑے ڈیموں کی تعداد 4 ہزار سے زائد ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک ہم سے کئی گنا بڑے ہیں لیکن یہ اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ ہم نے آبی ذخائر بنانے میں کس قدر غفلت کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے گزشتہ چالیس سال میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا یوں اب نئے ڈیمز کی تعمیر کے سواء کوئی چارہ نہیں اور نوبت، اب یا کبھی نہیں،، تک آچکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان نے2025 تک نئے ڈیمز نہ بنائے توخشک سالی ملک کا مقدر ہو گی جبکہ 2040 تک پاکستان خطے میں سب سے کم پانی والا ملک ہو گا۔یوں ان خدشات کے پیش نظرپاکستان فوری طور پر دیامر،بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر چاہتاہے لیکن ان کے لیے وسائل ناپید ہیں۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کی کوششوں کے باوجود دیامر بھاشا کے لیے فنڈنگ سے ا نکارکر چکے ہیں اور اس کی وجہ اس کی ایسے علاقے میں تعمیر ہونا ہے جومسلہ کشمیر کے تنازعہ سے جڑا ایک متنازعہ علاقہ تصور کیا جاتاہے۔ چین بھی اب تک اس منصوبے کو اقتصادی راہدی میں شامل کرنے پر راضی نہیں ہوا۔

مہمند ڈیم خیبر پختونخواہ کی مہمند ایجنسی میں دریائے سوات پر بنایا جا رہاہے اور 2010 کے تخمینے کے مطابق آج اس کی لاگت تقریباً 170 ارب روپے ہے، اس ڈیم سے 740 میگاوواٹ بجلی پیداہوگی۔ دیامر بھاشا ڈیم اس کی نسبت بہت بڑا ہے۔دیامر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر چلاس سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر گلگت ، بلتستان کے ضلع دیامر، اس کے علاقے بھاشا اور خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہستان کی سرحدی پٹی پربننے والا دنیا کا سب سے اونچا آر سی سی ڈیم ہے۔ دریائے سندھ کا آغاز تبت کے ہندوکش پہاڑوں میں پگھلنے والی برف سے ہوتا ہے، کشمیر کے راستے گلگت، بلتستان میں داخل ہوتاہے اور پھر قراقرم کے پہاڑوں میں بل کھاتا،پنجاب اور سندھ کی زمینوں کو سیراب کرتا سمندرسے جاملتا ہے۔2013 کے تخمینے کے مطابق اس ڈیم کی تعمیر کے لیے 1400 ارب روپے درکار ہیں جبکہ اس سے 4500 سو میگاوواٹ بجلی پید اہوگی۔ 750 ارب روپے ڈیم کی جھیل(واٹر ریزوائر) بنانے کے لیے جبکہ 650 ارب روپے اس کے بعد بجلی کی پیداوار کے نظام اور ٹرانسمیشن لائنوں کی تنصیب کے لیے درکا رہوں گے۔ ا س منصوبے کا پہلا سنگ بنیاد 2006 میں جنرل پرویز مشرف جبکہ دوسرا وزیر اعظم یوسف ر ضاگیلانی نے 2011 میں رکھا۔ 2011 کے بعد اس منصوبے کے لیے زمین کے حصول کا کام شروع ہو ا اور مسلم لیگ نون کے گزشتہ دور حکومت میں زمین کا حصول مکمل ہوا، مقامی لوگوں کو معاوضوں کی مد میں 55 ارب روپے دئیے گئے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا صرف پاکستانیوں کے چندے سے ہم یہ دونوں ڈیم بنا سکیں گے؟جن کی لاگت 1550 ارب روپے سے زیادہ ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی سرتوڑ کوششوں اور وزیر اعظم عمران خان کی بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کے باوجود ڈیم فنڈ میں اب تک 3 ا رب 80 کروڑ روپے ہی جمع ہو سکے اور ان میں سے بھی 1 ارب 59 لاکھ روپے پاک فوج کی جانب سے دئیے گئے۔یوں اگر اس رقم میں بہت ہی غیرمعمولی اضافہ بھی ہوا تو بات آٹھ، دس ارب روپے سے آگے نہیں جاسکے گی۔ یوں چندے سے اس خطیر رقم کے حصول کا باب بند ہو چکا اور حکومت کو بھی یہ بات سمجھ آ چکی ہے کہ ہسپتال بنانے اور ڈیم بنانے میں فرق ہے۔ اس صورتحال میں ہمارے پاس متبادل آپشنز کیا ہیں کہ ہم 2025 تک یہ ڈیمز بنا سکیں۔اس کے لیے پہلے چارہ کار کے طور پر ہمیں ایشئین ڈویلپمنٹ بینک، چین اور سعودی عرب کو ڈیم کی فنڈنگ کے لیے راضی کرنا ہوگا،یہ تینوں ملکر کنسورشیم بنائیں تو پاکستان کی مراد پوری ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو پھر پاکستان کو اپنے وسائل پر اعتبار کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگااور اس کے لیے آسان نسخہ موجود ہے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت گزشتہ سال دیامر، بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے پی ایس ڈی پی میں 100ارب روپے مختص کر چکی ہے، اگر نئی حکومت اسی راستے پر چلتے ہوئے ہر سال پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے مختص کرتی رہے تو2025 تک پاکستان اپنے وسائل سے ہی کم از کم دیامر، بھاشا ڈیم کا واٹر ریزوائر بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔

اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ضروری ہے،دیامر بھاشا ڈیم بننے میں صرف سرمایہ ہی آخری رکاوٹ ہر گز نہیں۔ ڈیم سے متاثر ہونے والے گلگت،بلتستان کے عوام کو مطمئن کرنا سب سے ضروری ہے جن کے تحفظات بڑھتے ہی جا رہے ہیں اوردو قبائل کے درمیان لڑائی بھی عروج پر ہے۔ ڈیم کی تعمیر سے31 گاوں کے 4100 گھر متاثر ہو رہے ہیں جن کی آبادی 35 ہزار سے زائد ہے۔ صدیوں سے اپنی مٹی سے جڑے ان لوگوں کا اپنا گھر بار چھورناکسی المیے سے کم نہیں۔یہ لوگ کہاں جائیں گے،واپڈا بھی تک اس حوالے سے بندوبست نہیں کر سکا۔ منصوبے کے مطابق ڈیم متاثرین کے لیے گلگت میں ہی نو ماڈل گاوں بننے تھے لیکن ان میں سے ابھی تک ایک ہی کالونی بن سکی وہ بھی ڈایزاسٹر زون میں جہاں سیکیورٹی خدشات کیساتھ اکثر سیلاب آتے ہیں۔ وزیر اعلی ٰ گلگت بلتستان نے غیر موزوں قرار دے کراس واحد کالونی کی بھی مزید تعمیرات روک دی ہیں۔

25ہزار ایکٹر پر بننے والے دیامیر بھاشا ڈیم سے شاہراہ قراقرم کا 100 کلومیٹر حصہ زیر آب آئے گا جبکہ ضلعی ہیڈ کوارٹر زچلاس کا بڑا علاقہ بھی ڈوب جائے گا۔ یہی نہیں یہ ڈیم 1500 ایکٹر زرعی زمین بھی نگل جائے گا جبکہ ڈیم کی تعمیر سے یہ خطہ اہم ثقافتی ورثے سے بھی محروم ہو جائے گا، یہاں کے پہاڑ وں پرہزاروں سال پرانی تہذیبوں کے نقوش اب بھی موجود ہیں لیکن یہ ورثہ بھی پانی کی نظر ہو جائے گا۔ اتنی بڑی قربانیوں کا ثمر اتنا تو ملنا چاہیے کہ گلگت،بلتستان کے عوام کو ہمیشہ کے لیے لوڈ شیڈنگ سے مستثنی ٰ قرار دے دیا جائے لیکن ایسا ہونا بھی ممکن نہیں دکھائی دیتا،آزادکشمیر میں بننے والے منگلا ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈل منصوبے اس کی مثال ہیں۔ دونوں منصوبوں سے تقریباً2500میگاوواٹ بجلی پید اہوتی ہے (منگلا ڈیم 1500 میگا وواٹ، نیلم جہلم969 میگاوواٹ) لیکن پورے آزادکشمیر کی کل ضرورت 350 میگاوواٹ ہونے کے باوجود گرمیوں میں یہاں کے باسیوں کو بارہ سے چودہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاق کو پورے ملک کے لیے واضح اور یکساں پالیسی مرتب کرتے ہوئے یہ ا علان کرناہو گا کہ جس خطے کے وسائل ہیں ان پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے، گیس نکلے یا بجلی منصوبہ لگے، سب سے پہلے وہاں کے عوام مستفید ہوں گے، اس طرز عمل سے نہ صرف مقامی لوگوں کی زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ وفاق پر ان کا اعتماد بڑھے گا اور مستقبل میں مزاحمت کے بغیر ملک کے طول و عرض میں قومی سطح کے مزید منصوبوں کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

Comments are closed.