سقوط ڈھاکہ کے اہم کردار۔۔۔۔ انجام کیا ہوا

تحریر: محمد زیشان اعوان

بچپن سے کہانیاں پڑھائی اور سنائی جاتی ہیں کہ انسان کو اچھے کام کرنے چاہیں، اس عمر میں یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں کہ ایسا ہی کوئی سکھایا جاتا ہے، جب سوال کرنے، سوچنےاور پوچھنے کی عمر آتی ہے تب تک ہم اتنا الجھ چکے ہوتے ہیں کہ ہمارے لیے ان باتوں کے جواب حاصل کرنا ترجیح ہی نہیں رہتا۔ ہماری تاریخ کا ایسا ہی ایک باب سانحہ مشرقی پاکستان ہے، کچھ اس کے حقائق چھپائے اور کچھ ہماری نسل نے اس سبق میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ جب جب جس نے لکھا اس نے اپنا سچ لکھا جسے کسی نے قبول تو کسی نے مستردکردیا۔ اسی موضوع پر ایک کتاب پڑھی تو اس میں ایک تاریخی سبق تھا اور اس سے وہ تو انکار نہیں کرسکتا جس کے ضمیر کی آنکھیں اور دل کھلا ہے کہ پاکستان کے دو لخت ہونے میں جس نے بھی کردار ادا کیا، اسے سزا ملی اور جس نے گناہ میں جتنا بڑا حصہ ڈالا اسے سزا بھی اتنی ہی بڑی ملی۔
شیخ مجیب الرحمان

جس پاکستانی فوج کے ہاتھوں قید ہوا، جس کیخلاف بغاوت کی، جس نے بنگلہ دیش میں مظالم بھی ڈھائے ، اس کے ہاتھوں نہیں مرا۔ بلکہ اپنے ہی ہاتھوں بنائے گئے ملک کی اپنی فوج نے خاندان کے 18 افراد کے ساتھ قتل کیا جس میں 10 سالہ شیخ رسل بھی شامل تھا۔
تاج الدین

انہوں نے 1960 کی دہائی میں پاکستان کو دولخت کرنے کیلئے بھارت سے مدد مانگی تھی تب نذرالاسلام ، صفدر علی اور قمر الزماں ان کے ساتھ تھے، اب اتفاق دیکھیں کہ بنگلہ دیش میں فوجی بغاوت کے بعد جب فوج کی حکومت آئی تو انہوں نے جیل میں سب کو ایک ساتھ گولیاں ماریں، اور تاج الدین تو زخمی حالت میں کافی دیر پانی مانگتے مانگتے سسک سسک کر مرے۔
جنرل (ر) ضیا الرحمان

ضیا الرحمان نے میجر کی حیثیت سے بنگلہ دیش کی آزادی کاا علان کیا، انہیں بھی 1981 میں چٹاگانگ میں قتل کیا گیا، انکی لاش کئی گھنٹے ننگے فرش پر پڑی رہی، کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا۔
ذوالفقار علی بھٹو

ذوالفقار علی بھٹو4 اپریل 1979 کو راولپنڈی جیل میں پھانسی لگ گیا، بیٹا مرتضی بھٹو عین جوانی میں کراچی میں پولیس مقابلے میں مارا گیا،دوسرا بیٹا شاہنواز بھٹو 1985 میں زہر سے ہلاک ہوا، 2007 میں بیٹی بے نظیر بھی دہشتگردی کا نشانہ بن گئی۔

اندرا گاندھی
اندرا گاندھی کو سانحہ مشرقی پاکستان میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اندرا گاندھی کو اکتوبر 1984 میں اپنے ہی سکھ سکیورٹی گارڈ نے قتل کردیا۔ بڑا بیٹا سنجے گاندھی جون 1980 میں دہلی میں طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوگیا، دوسرا مٹی راجیو گاندھی مئی 1991 میں خود کش حملے میں مارا گیا۔

جنرل (ر) یحیی خان
یحییٰ خان پاکستان میں اپنے ذاتی اقتدار کی خاطر سازشیں کرنے والا یہ شخص مفلوج ہو کر اگست 1979 میں بے یارو مدد گار ہوکردنیا سے رخصت ہوا۔
جنرل (ر) نیازی

جنرل نیازی فوجی میسوں میں بات کرنے کیلئے لوگ ڈھونڈتا رہا، بقیہ ساری زندگی صفائیاں دیتے گزر گئی۔ خاندان کیلئے جو بدنامی سمیٹی وہ آج بھی سب کیلئے عبرتناک مثال ہے۔
ائیر مارشل(ر) رحیم خان

رحیم خان تب کا ائیرفورس کا سربراہ تھا، یہ جب امریکہ میں فوت ہوا تو اس کے جنازے میں شرکت کرنے والا کوئی نہیں تھا، صرف سفارت خانے کے چند لوگ نے شرکت کی۔
جنرل (ر) گل حسن

 مشرقی پاکستان کا یہ کردار دھپڑ کے مرض میں مبتلا ہوا جس سے اسکی شکل ہی بگڑ گئی،1997 میں کینسر سے لڑتے لڑتے مرا۔
تاریخ کا یہ سلوک یہاں پر ختم نہیں ہوا بلکہ جاری رہا اور جاری ہے کہ بھٹو کو پھانسی دینے والے ضیا الحق کا اپنا انجام اس سے زیادہ افسوسناک تھا۔ ضیا الحق کی موت پر یہ کہنے والی بے نظیر کہ حادثہ ہوا،مر گیا، اب تحقیقات کی ضرورت کیا ضرورت ہے، کی اپنی ہی جماعت کی حکومت آنے کے باوجود قتل کی تحقیقات نہ ہوسکیں۔
یہ واقعات لکھنے کا مقصد کسی شخص یا سیاسی جماعت کی دل آزاری نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ یہ دنیا تماشا نہیں بلکہ یہ ایک عبرت کا مقام ہے، یہاں آپ جو آج بوتے ہیں، کل وہی کاٹتے ہیں اس لیے کوشش کریں کہ چائے آپ کا کردار چھوٹا ہو یا بڑا۔ یہ مثبت ہو کہ کل کو جب آپ گزر جائیں تو آپ کی لاش سے بدبو نہ آئے، لوگ آپ کی مثالیں دے کر دوسروں کو چپ نہ کرائیں اور آپ کا نام لینے سے آپکا اپنا کوئی نہ شرمائے۔

۔(یہ حقائق بنگلہ دیش میں پاکستان کے سفیر رہنے والے افراسیاب کی کتاب 1971 سقوط ڈھاکہ، حقیقت کتنی، افسانہ کتنا۔۔۔ سے لیے گئے ہیں۔  یہ مصنف کی اپنی رائے ہو سکتی ہے ادارے کا اس اقتباس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Comments are closed.