کیا یہ ہے تمہاری تبدیلی، کیا یہ ہے تمہاری حکومت ؟

تحریر: محمد ذیشان اعوان

یہ کیسی تبدیلی ہے، کی سی ہے یہ حکومت ۔؟ جس میں نہ صحافیوں کیلئےاونچی سرکاری نوکری ہے، نہ ہی مفت حج وعمرہ کی ٹکٹیں ہیں، نہ ہی بیرون ملک  کے ایک کے بعد دوسرے دورے ہیں اورنہ ہی اخباروں اور ٹی وی چینلز کیلئے اشتہارات کی بھرمار ہے۔ صحافیوں سے ملک چلانے کے مشورے لینے کیلئے واٹس ایپ گروپ بھی نہیں بنایا، ہیلی کاپٹر کی بھی کسی کو سیرنہیں کرائی، وزیراعظم ہاوس سے کسی کو گالی تو کسی کو شاباش دینے کا اہم کام بھی نہیں ہوا۔ کسی حامد میر کو نوکری سے نہیں نکلوایا گیا اور نہ  ہی کسی نجم  سیٹھی  کا سر ٹانگوں میں دے کرمارا گیا۔

 ہائےیہ کیسی حکومت ہے، ہائے یہ کیسی تبدیلی ہے۔کیا یہ ہے تمھاری تبدیلی؟

یہ کیسی حکومت ہے جس میں آتے ہی نہ سیاستدانوں کو اپنا لگایا سرمایہ سود سمیت واپس ملا، نہ رشتے داروں کو ٹھیکے دینے کا مو

قع آیا، نہ چھوٹے بڑے سیاستدانوں کیلئے فنڈز کے منہ کھلے اور نہ ہی اپنی مرضی کا ڈی پی او، ڈی سی اوز لگانے کا اختیار ملا، آج بھی حمایتی ٹرانسفامرز لگوانے، بندے بھرتی کروانے، گلی پکی کروانے، گھر تک سڑک بنوانے  ، مخالفین پر جعلی مقدمے بنوانے کے منتظر  ہیں۔

ہائے ہائے کیسی ہے یہ حکومت، کیا یہ ہے تمھاری تبدیلی؟

یہ کیسا نیا دور ہے جس میں مولویوں کیلئے نہ کسی پیکج، کسی ڈیزل پرمٹ، کسی کشمیر

کمیٹی   اور نہ ہی  حلوے کے کڑاہا کا منہ کھلا اور تو اور یہ بھی دیکھو  کسی نے  عظیم دینی خدمات کے عوض اب تک     ہزاروں کنال سرکاری زمین کا نذارانہ  بھی نہیں دیا۔

ہائے کیسی ہے یہ حکومت،  کیا یہ ہے تمھاری تبدیلی؟

یہ کیسی نااہل ، کمزور، کم ظرف، ناتجربہ کار حکومت آئی ہے جس نے آتے ہی عوام کیلئے جگہ جگہ  ائیرپورٹس بنانے، نئی نئی سڑکیں بنانے، لیپ ٹاپس بانٹنے  کا اعلان ہی نہیں کیا۔ سٹیل ملز کے ساتھ پی آئی اے مفت میں دینے کی پیشکش  نہیں کی،  کوئی بینک کسی  دوست کو تحفے میں نہیں دیا، ائیرپورٹ کسی رشتے دار سے بنوانے کا ذکر نہیں چھیڑا۔  کسی منظور نظر کو پارکنگ، پٹرول پمپوں کے ٹھیکے بھی نہیں دیئے۔ یہ تو بالکل ہی ناکام حکومت ہے کہ اس نے آرمی چیف کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے بڑی گاڑی کی چابی کی پیشکش بھی نہیں کی، نہ ہی ان سے راتوں کو چھپ چھپ کر خفیہ ملاقاتیں شروع کی ہیں، اور تو اور بڑے جج صاحب کو  ابھی تک وہ ٹیلی فون کال بھی نہیں کہ  بڑے صاحب یہ فیصلہ ایسے چاہتے ہیں۔

یہ نہیں چلنے والے ، یہ ناکام  حکومت، یہ تبدیلی۔۔

یہ کیسی حکومت ہے  جو درخت لگانے، صفائیاں کرانے، قبضے چھڑانے، ادارے بنانے جیسے نہ کرنےوالے کاموں میں لگی ہے۔ یہ بھی دیکھو اس نے بغیر کسی دھرنے، احتجاج کے دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنادیا ہے، اپنی مراعات میں اضافے کے بجائے کمی کردی ہے، ابھی  ہی گزرے ضمنی انتخاب کو لے لیں جس میں  سرکاری وسائل سے کوئی رونق نہیں لگی، انتظامیہ نے سیاسی مخالفین کو نہیں اٹھایا، پولیس افسران نے ووٹ مانگنے کی مہم بھی نہیں چلائی،  حکومت  کے خزانے منہ ہی نہیں کھولے اور چپ چاپ ہار گئی۔

ہائے ہائے  یہ مشکل زمانہ،  اب کسی نے نہیں بچانا

ڈی پی او پاکپتن  کا تبادلہ، منشا بم کی گرفتاری ، محمود الرشید کے بیٹے  کی ایف آئی آر  کامعاملہ، اپنے ہی لگائے آئی جی پنجاب طاہر خان  کا تبادلہ، ناصر درانی کا ساتھ کام کرنے سے انکار کرنا، معیشت کو سنبھالتے ہوئے بنیادی غلطیاں کرنا  جس کا خمیازہ عوام مہنگائی کی صورت میں بھگتیں،  یہ اور ان جیسی کسی بھی غلطی کی معافی نہ  پہلے ملی ہے اور نہ ہی آئندہ ملے گی ، اور عوام نے بھی ضمنی انتخابات میں اس کا ردعمل دیا  ہے کہ ابھی سدھر جاو، اپنی سمت درست کر لو اور اگر  اپنے وعدے پورے نہ کیے، اصلاحات نہ لائیں تو   گھر تک چھوڑ آنے والوں میں  مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنے بھی شامل ہوں گے۔  تحریک انصاف کیلئے بری اور عوام کیلئے اور بھی اچھی بات یہ ہے کہ  وہ لوگ جو ملک میں 10 سال ستو پی کر سوئے رہے،وہ بھی جاگ رہے ہیں، انہیں بھی احساس ہورہا ہے کہ معیشت کمزور ہے، ملک درست سمت میں گامزن نہیں، پالیسیوں میں عدم تسلسل کا نقصان ہوتا ہے، اداروں میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے،  حکومت کو لوگ ووٹ تھوڑا کھانے اور تھوڑا لگانے کیلئے نہیں دیتے بلکہ وہ صرف کام کیلئے ایسا کرتے ہیں،  حکومت بھی یہ کرے کہ اپنوں اور مخالفوں کی ناراضگی اور تنقید  مول نہ لے اور کام کرے، تبدیلی کا وہ خواب  جو عوام کو برسوں دکھایا اب وہ لا کر دکھائے۔ عمران خان یاد رکھیں    کہ لوگ یہ بھول جائیں گے کہ کس وزیر نے کیسے حکومت کا دفاع کیا، کس نے کیا بیان دیا لیکن یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ عمران خان نے قوم سے تبدیلی لانے کا وعدہ کیا تھا  جو خواب دکھایا تھا وہ پورا نہیں کیا۔

Comments are closed.