محکمہ تعلیم سندھ میں 8 ارب 77 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں

کراچی: محکمہ تعلیم سندھ میں 8 ارب 77 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف مالی سال دوہزار سترہ دو ہزار اٹھارہ کی آڈٹ رپورٹ میں ہوا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق گھوسٹ اور نئے بھرتی ملازمین کے نام پر 3 ارب 40 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ تنخواہوں کی ادائیگیاں خلاف ضابطہ کی گئیں۔  جعلی ملازمین کی بند کی گئی آئی ڈیز بحال کرکے تنخواہ کی ادائیگیاں ہوئیں۔مفت کتابوں کی فراہمی، ایس ایم سی فنڈ، ایس ایس بی اخراجات میں پانچ ارب سے زائد کی مالی بےضابطگیاں ہوئیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق بے ضابطگیوں کے حوالے سے محکمہ تعلیم کومتعدد بار خطوط لکھے گئے۔محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران اخراجات کےدرست استعمال ثابت نہ کرسکے۔محکمہ کےکئی افسران نے آڈٹ اعتراضات پرجواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ آڈٹ میں اعتراضات کلئیر نہ ہو تو معاملہ سندھ اسمبلی کے پبلک اکاونٹ کمیٹی کے سپردکیا جائے گا۔

Comments are closed.