منصف وقت۔۔۔ اک نظر ادھر بھی

تحریر: عقیل احمد تنولی

سپریم کورٹ آف پاکستان میں ضمانت کی ایک ایسی درخواست دائر کی گئی ہے جو پاکستان کے عدالتی نظام کا منہ چڑا رہی ہے۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید محمد زاہد پر 2 سال قبل اس کے مالک نے 15مرغیوں کی  چوری کا الزام لگایا اور ایف آئی کروا دی، محمد زاہد کو پولیس نے گرفتار کیا اور اڈیالہ جیل میں ٹھونس دیا، وہ دن ہے اور آج کا دن ہے زاہد جیل میں ہے، 15 مرغیوں کے چوری کا الزام زاہد کا اتنا بڑا جرم بن گیا کہ مقامی عدالتیں اور ہائیکورٹ کے ججز جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضمانت دینے سے قاصر رہیں۔

 بدقسمت زاہد کا نہ تو آج تک کیس سماعت کے لیے عدالت میں مقرر ہوا اور نہ ہی اسے ضمانت ملی، فرض کر لیا جائے اگر زاہد نے حقیقتاً مرغیاں چوری کی بھی ہوتی تو اب تک اپنے جرم سے زیادہ وہ سزا کاٹ چکا ہے، یہ ہی ہمارے نظام کا المیہ ہے کہ عدالتیں بھی غریب کا کیس سننے میں زرا دلچسپی نہیں رکھتی کیوں کہ غریب کا کیس نہ تو شہرت کا باعث بنتا ہے اور اچھے تعلقات کا بس صرف ججز کے وقت کا ضیائع کرتا ہے۔

زاہد محمود کو پولیس نے گرفتار کیا تو اس غریب نے ضمانت کے لیے متعلقہ عدالت سے ضمانت کے لیے رجوع کیا عدالت نے ضمانت مسترد کر دی، پھر مجبور زاہد کے ماں باپ نے قرض لے کر درخواست ضمانت ہائی کورٹ میں دائر کی مگر وہاں بھی زاہد پر قسمت کی دیوی مہربان نہ ہوئی اور ایک بار پھر درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی۔

آخر زاہد کی ضمانت کی درخواست در در کی ٹھوکریں کھاتی اب پہنچی ہے پاکستان سب اونچی عدالت میں، سپریم کورٹ کی نوازش کے انسانیت اور انصاف کی تذلیل کی اس داستان کو سننے کے لیے 12 فروری کا وقت مقرر کیا، جہاں اس عظیم ملزم کی تقدیر کا فیصلہ جسٹس مشیر عالم اور جسٹس فائز عیسیٰ پر مشتمل دورکنی بینچ سماعت کرے گا۔

Comments are closed.