پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فیس کمی کے فیصلے کے بعد توہین آمیز خطوط لکھنے والے نجی اسکولوں کو دو ہفتوں میں تحریری معافی نامے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔۔ جسٹس گلزاراحمد کہتے ہیں عدالتی فیصلے کو ڈریکونیئن کہنے کی جرات کیسے ہوئی، نجی اسکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے۔نجی اسکولوں نے تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نجی اسکولوں کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ نجی اسکولوں کی جرات کیسے ہوئی کہ وہ عدالت عظمیٰ کے فیس کمی سے متعلق فیصلےکو ڈریکونیئن فیصلہ کہیں۔ جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ آپ کس قسم کی باتیں لکھتے ہیں،آپ کے اسکولوں کو بند کر دیتے ہیں، سرکار کو کہہ دیتے ہیں کہ آپ کے سکولوں کا انتظام سنبھال لے۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے۔ اسکول انڈسٹری یا پیسہ بنانے کا شعبہ نہیں، نجی اسکولوں نے تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے، آپ کے پاس کالا دھن ہے یا سفید آڈٹ کرا لیتے ہیں، تعلیم کو کاروبار بنا لیا ہے اسکول پیسے بنانے کی کوئی صنعت نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ نجی اسکول والوں نے گھروں میں زہر گھول دیا ہے، نجی اسکولوں کے بچے والدین سے ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کا تصور نہیں کرسکتے، والدین بچوں کوسیرکرانے کہاں لے جاتے ہیں پرائیویٹ سکول یہ پوچھنے والے کون ہوتے ہیں،جس سکول کی فیس زیادہ ہو وہی مشہور ہوجاتا ہے۔

نجی اسکولوں کے وکیل نے موقف اپنایا کہ عدالت کی تضحیک کا کوئی ارادہ نہیں تھا، عدالتی فیصلے پر عمل کر کے فیس کم کردی ہے، عدالت سے معافی کے طلب گار ہیں، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تحریری معافی نامہ جمع کرا دیں ہم دیکھ لیں گے۔ مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

Comments are closed.