اصغرخان کیس میں فوجی افسران کیخلاف4 ہفتوں میں انکوائری کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اصغرخان عمل درآمد کیس میں وزارت دفاع کو فوجی افسران کیخلاف چار ہفتے میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے اور وزارت دفاع کے جواب کا ایک ساتھ جائزہ لیں گے کہ عدالتی حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکن یبینچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ فوجی افسران کیخلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کیوں نہیں شروع ہوئی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ انکوائری میں شواہد سامنے آنے پر کورٹ مارشل ہوگا، فراڈ یا کرپشن پر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کورٹ مارشل ہو سکتا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نوے کی دہائی میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کو بھی پیسے ملے تھے،کیس میں ان کا نام سامنے آیا نہ ہی ایف آئی اے رپورٹ میں میں کوئی ذکر ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں بانی ایم کیو ایم کا نام تھا، وہ اب پاکستان میں نہیں،، متحدہ بانی اوردیگر ملزمان کی حوالگی کیلئے برطانیہ سے بات چیت جاری ہے، جس میں بہت جلد اہم پیشرفت متوقع ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ  اصغر خان کیس میں 28 سال پہلے 184 کروڑ روپے کی خطیر رقم استعمال ہوئی، فوجی حکام تو اپنے افسران کے پتے بھی دینے کو تیار نہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایف آئی اے تو ہاتھ کھڑے کرنا چاہتا ہے، عدالت نے وزارت دفاع کو مقدمے میں ملوث فوجی افسران کیخلاف چار ہفتے میں انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ ایف آئی اے رپورٹ کا جائزہ وزارت دفاع کے جواب کے ساتھ لیا جائے گا، دیکھیں گے کہ عدالتی حکم پرعمل ہوا یا نہیں۔ مقدمے کی مزید سماعت چار ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی۔

Comments are closed.