کاکا جیمز ہم تمہیں نہیں بھولے

تحریر؛ صدف بٹ (ایبٹ آباد)

ہزارہ ڈویژن برصغیر کی تاریخ میں منفرد مقام رکھتا ہے، زمین کا یہ ٹکڑا کئی حکمرانوں کے عروج و زوال کا عینی شاہد ہے کچھ کا نام تو تاریخ کی پستی میں پہنچا اور دنیا نے بھلا دیا اور کچھ اپنا نام اس دھرتی پر امر کر گئے۔ ہزارہ ڈویژن کے تین بڑے شہراپنے پرانے، مخلص  اور مہربان آقاوں کے نام سے منسوب ہیں، یہ ہی وجہ کہ مانسہرہ سے سردار مان سنگھ میرپوری، ایبٹ آباد سے جنرل جیمز ایبٹ اور ہریپور سے سکھ خالصہ آرمی کے جنرل ہری سنگھ نلوا کی ناموں کی خوشبو آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔

ہزارہ تاریخ  کا بھلائے نہ بھلائے جانے والا کردار جنرل جیمز ایبٹ کا ہے جن کے بنا اس علاقے کی تاریخ اپنا حسن کھوبیٹھتی ہے۔ سرجیمز جنہوں نے اورش کے میدان میں قدم رکھتے ہی تخت برطانیہ کو مشورہ دیا تھا کہ اورش میدان میں فوجی چھاونی بنائی جائے کیونکہ یہاں کی آب و ہوا فوجی افسران و جوانوں کے لیے نہایت موزوں ہے۔ برٹش سرکار نے مشورے پر عمل کیا اور چھاونی تعمیر کردی۔

پہلی اینگلو سکھ وار 46-1845 میں سکھوں کو برطانوی سامراج کے ہاتھوں شکست ہوئی اور معاہدہ لاہور کےتحت ہنری لارنس کو تاج برطانیہ کی جانب سے لاہور میں ریزیڈنٹ مقررکیا گیا جس کا کام تخت لاہور کے انتظامی معاملات دیکھنا تھا، ہنری لارنس نے قابض حصے پر اپنے اسسٹنٹ تعینات کیئے، جیمز ایبٹ کو ابیٹ آباد میں تعینات کیا گیا جہاں انہوں نے گورنرچترسنگھ اٹاری والا کے ایڈوائزر کے طور پر کام کیا، ایبٹ کا زیادہ وقت ہرپور کے ہرکشن گڑھ قلعے میں موجود دفتر میں گزرتا تھا۔

جیمز ایبٹ نے ایبٹ آباد سے 35 کلومیٹر دور مغرب میں شیروان کے علاقے میں ایک بنگلہ تعمیر کروایا، کہا جاتا ہے کہ انہیں یہ جگہ بہت زیادہ پسند تھی، اکثر برطانوی سامراج کی خفیہ ملاقاتیں اور اہم اجلاس بھی شیروان والے بنگلے میں ہی ہوا کرتی تھیں، وقت اتنی تیزی سے گزرا کہ زمانے کے نشیب و فراز نے آج اس بنگلہ کا نشان تک مٹا دیا تاہم جس پہاڑی پر وہ بنگلہ واقع تھا وہاں کے لوگوں نے اسکا نام ایبٹ ہل رکھ دیا۔

دوسری اینگلو سکھ وار 49-1848 میں سکھوں کو دوبارہ شکست ہوئی جس کے بعد پنجاب مکمل طور پربرطانوی راج کے ماتحت آگیا اور سرجیمز کو ایبٹ آباد کا پہلا ڈپٹی کمشنر تعینات کیا گیا یہاں سے ہی سرجیمزکے دور کا ایبٹ آباد میں باقاعدہ آغاز ہوا۔

جیمز ایبٹ نے اپنے اعلیٰ اخلاق اور حسن سلوک سے یہاں کے لوگوں کو اپنا  گرویدہ بنالیا مقامی لوگ انہیں چاہنے لگے۔ 1853 میں ایبٹ کی ہزارہ سے تبدیلی کے بعد نئے آنے والے ڈپٹی کمشنر ایچ بی ایڈوڈز نے لوگوں کی سرجیمز ایبٹ کے لیے بے پناہ محبت کو دیکھتے ہوئے شہر کا نام ایبٹ آباد رکھا، یہی وجہ ہے کہ ہزارہ کی عوام کے دلوں میں سرجیمز ایبٹ کی محبت آج بھی ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔

جنرل جیمز ایبٹ نے یہاں سے رخصتی سے قبل ایک نظم بھی لکھی ’’ قصبہ ایبٹ آباد‘‘ جس میں انہوں نے یہاں کے لوگوں سے اپنی محبت کا اظہار کیا، کہا جاتا ہے کہ الوداع ہونے سے پہلے جیمز ایبٹ نے ناڑہ سید خانیاں کے مقام پر عوام کے لیے دعوت عام رکھی جس میں طعام کا بندوبست کیاگیا تھا تین دن تک لوگ اس دعوت عام سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ تاریخ کے کچھ اوراق سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ جنرل جیمز ایبٹ نے زندگی کی جمع پونجی اس تقریب کے انعقاد پر خرچ کر دی تھی،مقامی آبادی سرجیمز ایبٹ کو کاکا ایبٹ کے نام سے پکارتی تھی تاریخ بتاتی ہے کہ جنرل جیمزکو ہزاروں لوگ اشک بار آنکھوں کے ساتھ رخصت کرنے آئے اور سینکڑوں افراد انہیں الوداع کہنے حسن ابدال تک ساتھ آئے۔

۔12 مارچ 1807 کو انگلینڈ کی کاونٹی کینٹ میں پیدا ہونے والے جنرل جیمز ایبٹ سے یہاں کے لوگوں کی محبت چلتے پھرتے نظر آتی ہے جب یہاں آنے والوں کی نظر ایبٹ فلاورز، ایبٹ ہٹس، ایبٹ گارڈن، ایبٹ لاء کالج، جیمز ایبٹ سکول سسٹم جیسے ناموں پر نظر پڑتی ہے۔

کاکا ایبٹ کو سرزمین ہزارہ سے سے کوچ کیئے ڈیڈھ صدی سے زائد جبکہ جہان فانی سے رخصت ہوئے 123 برسوں کا طویل عرصہ بیت چکا ہے مقامی آبادی کی تین پیڑھیاں گزرچکی جبکہ چوتھی کے بالوں میں بھی چاندی اترآئی ہے، ایبٹ آباد قصبے سے تحصیل پھر ضلع اور اب ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کا روپ دھار چکا ہے، لوگ اس پودے کی آبیاری کرنے والے مہربان کو نہیں بھول پائے، نہ بھولیں گے۔ جنرل جیمز ایبٹ تاریخ تمہیں یاد رکھے گی، ایبٹ آباد تمہیں یاد رکھے گا، ہزارہ تمہیں نہیں بھولے گا۔

Comments are closed.