پلوامہ حملہ، بھارت کو ایک بارپھرہزیمت کا سامنا

اسلام آباد: بھارت پلوامہ حملے کا ایک اورماسٹر مائنڈ سامنے لے آیا۔ اب کی بار کہاگیاہے کہ پلوامہ حملے کے ماسٹر مائنڈ کی تصدیق مدثر،، عرف ”محمد بھائی” کے نام سے ہوگئی ہے۔ نوجوان محمد بھائی بھی پلوامہ کا رہائشی نکلا۔۔یوں پاکستان کا موقف ایک بار پھر درست ثابت ہواکہ مودی سرکار پاکستان پر الزام کے بجائے کشمیر میں ظلم و ستم بند کرے اور پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔

 بھارتی میڈیا کے مطا بق پلوامہ حملے کے ماسٹر مائنڈ کی تصدیق مدثر،، عرف ”محمد بھائی” کے نام سے ہوگئی ہے۔23 سالہ محمد بھائی گریجویٹ ہے اور حملے کے لیے گاڑی اور دھماکا خیز مواد کا انتظام اسی نے کیا۔سیکیورٹی حکام کے مطابق محمد بھائی جنوری 2018ء سے گھر سے لاپتہ تھا اور عاڈل ڈار سے ر ابطے میں تھا۔ مودی سرکار نے اس سے قبل مرحوم غازی رشید کو پلوامہ حملے کاماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا۔۔

 بھارت کی اس نئی قلابازی کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حملے کام کا ماسٹر مائنڈ بھی کشمیر ی ہے تو پھر پاکستان پر بلاجواز جنگ مسلط کیوں کی گئی ؟؟پاکستان کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ بھارت کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی جس کے نتیجے کشمیر ی نوجوان بندوق اٹھانے پر مجبور ہوئے ۔ عاڈل ڈار کے والدین نے بھی واضح طور پر کہا کہ بھارتی فورسز نے عادل کو بلاوجہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے رد عمل میں اس نے جہاد کا فیصلہ کیا۔۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت بھی کشمیر یوں کو جدوجہد آزادی کا پورا حق حاصل ہے۔ بار بار کی سبکی کے بعد اب بھارت کو چاہیے کہ ہر واقعے پر جھوٹ کی گردان شروع کرنے سے پہلے اچھی طرح تحقیقات کرلے۔

Comments are closed.