بیرون ملک اکاؤنٹ میں 10 لاکھ ڈالرسے زائد رقم پر ٹیکس دینا ہوگا

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹ میں ایک ملین ڈالر سے زیادہ رقوم رکھنے والوں کیخلاف کاروائی شروع  کردی گئی۔ ایک اکاؤنٹ سے 17 کروڑ روپے کا ٹیکس بھی آچکا ہے جبکہ ایسے پانچ سو اناسی اکاؤنٹس کا ڈیٹا پراسسنگ میں ہے۔

چئیرمین فیض اللہ کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس میں بتایا گیا کہ پانامہ کیس میں چار سو کیسز کی تحقیقات ہو چکی ہیں۔ اب تک عبوری 15 کیسز میں سے 6.5 ارب روپے کے ٹیکس نوٹسز بھجوانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جن افراد کے خلاف کیسز چل رہے ہیں ان کے نام مخفی رکھے گئے ہیں۔

رکن کمیٹی عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ٹیکس حکام صرف سیاستدانوں پر پانامہ کیس بناتے ہیں، دیگر کی تفصیل بتائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پانامہ اور دیگر تمام اقسام کے کیسز پر خصوصی کمیٹی بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ ایف بی آر کی بریفنگ تسلی بخش نہیں۔

ٹیکس حکام نے کہا کہ پانامہ اور آف شور کی الگ الگ بریفنگ کے کیے تیار ہیں روشنی میں سات ممالک میں 295 کیسز پر کاروائی ہوئی ہے۔ پانامہ کیسز میں ٹیکس وصولی کی گنجائش نہیں۔ یہ کمپنیاں 1980 کی دہائی میں خفیہ ناموں سے قائم کی گئیں۔

بیرون ملک پاکستانیوں کی بے نامی جائیداد اور اکاؤنٹس پر پالیسی پانامہ کیس سے الگ ہے۔ بیرون ملک میں 183 روز سے زائد عرصہ تک جائیداد اور اکاؤنٹس رکھنے والے پاکستانیوں کو ٹیکس دینا لازمی ہے۔ 8 ہزار پاکستانیوں کے اکاؤنٹس میں مشکوک ٹرانزیکشن کی نشاندہی ہوئی ہے، جس بھی بڑے اکاؤنٹ  کی ملکیت ظاہر نہ ہونے پر اسے ضبط کر لیا جائے گا۔

بیرون ملک اکاؤنٹس کے ہر کیس کی تحقیقات میں چھ سے آٹھ ہفتوں کا وقت درکار ہے۔ 45 کروڑ روپے کی ٹیکس وصولی ان کیسز سے ہو چکی ہے۔

رکن کمیٹی قیصر احمد شیخ نے بتایاکہ ایف بی آر کی انتہائی ناقص کارکردگی ہے۔ ایف بی آر حکام واویلا زیادہ اور کام کم کرتے ہیں۔

Comments are closed.