نیوزی لینڈ مساجد حملے: دہشتگرد برینٹن ٹیرینٹ کا 5 اپریل تک ریمانڈ منظور

کرائسٹ چرچ: نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے میں ملوث آسٹریلوی دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ کو مقامی عدالت نے 5 اپریل تک ریمانڈ پر پولیس کےحوالے کر دیا ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے اسلحہ قوانین تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو درپیش چیلنجز کیلئے قانون سازی کریں گے۔ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو بڑا مالی پیکج دیا جائے گا۔

جمعے کے روز مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ کو ہتھکڑیاں لگا کر کرائسٹ چرچ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ دوران سماعت دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ بے حسی کا مظاہرہ کرتا رہا اور اس کے چہرے پر ندامت کے بجائے خباثت عیاں تھی۔

کرائسٹ چرچ پولیس کا کہنا ہے کہ عدالت میں برینٹن ٹیرینٹ پرابتدائی طور پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، مزید تحقیقات کے بعد دہشت گرد پر مزید الزامات میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔ برینٹن ٹیرینٹ کو 5 اپریل کو عدالت میں دوبارہ پیش کیا جائے گا ، اس وقت تک وہ پولیس کی تحویل میں رہے گا۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے برینٹن ٹیرینٹ کے دیگر ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا ہے ، جنہیں بھی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

قبل ازیں ویلنگٹن نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے اسلحہ قوانین تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو درپیش چیلنجز کیلئے قانون سازی کریں گے۔ دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو بڑا مالی پیکج دیا جائے گا۔

کرائسٹ چرچ کے علاقے میں دو مساجد میں دہشت گردی کے حوالے سے بریفنگ دی دیتے ہوئے بتایا کہ اطلاع کے 36 منٹ بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ حملہ آور کے پاس بندوق کا لائسنس تھا اب وقت آگیا ہے گن قوانین تبدیل کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ کمیونٹی کی ہرممکن مدد کی جارہی ہے، ہماری پہلی ترجیح جاں بحق افراد کی شناخت تھی، متاثرین کی مالی امداد کی جائے گی، متاثرین کو بہت بڑامالی پیکج دیاجائےگا۔ پریس کانفرس سے پہلے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے مسلم کمیونٹی کے ایک وفد سے ملاقات بھی کی۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے عیسائی دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ نے کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر عین اس وقت فائرنگ کی تھی جب وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے بڑی تعداد میں مسلمان موجود تھے، برینٹن ٹیرینٹ کی فائرنگ سے 49 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے جب کہ متعدد افراد لاپتہ ہیں، شہدا اور زخمیوں میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔

Comments are closed.