خواتین پر تشدد ۔۔۔ مردانگی کا زعم یا جہالت

تحریر: ممتاز حسین

کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے، لیکن جس ملک کی خواتین کو ان کے جائز حقوق تک ہی رسائی حاصل نہ ہو وہ ملک و قوم ترقی کی راہ پر کیسے گامزن ہو سکتے ہیں؟ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر خواتین شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

کچھ دہائیاں پہلے تک یہ تصور کیا جاتا تھا کہ شاید تعلیم کی کمی خواتین پر تشدد کی بنیادی وجہ ہے لیکن حال ہی میں پیش آنے والے چند واقعات نے اس تاثر کو یکسر رد کر دیا ہے۔ جس کی مثال چند دن قبل پنجاب کے سب سے بڑے شہر میں ایک شادی شدہ لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے۔

 یہ واقعہ سندھ ، خیبرپختونخوا یا بلوچستان کے دوردراز اور پسماندہ علاقے کا نہیں بلکہ پنجاب کے دارالخلافہ لاہورکا ہے جہاں پر بظاہر ایک پڑھی لکھی ماڈرن فیملی سے تعلق رکھنے والے شخص نے اپنی بیوی کو ایک پارٹی میں ناچنے کا کہا۔۔۔۔ خاتون کے انکار پر اس کے شوہر نے دوستوں کے سامنے نہ صرف اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ملازم کے ساتھ مل کر اپنی شریک حیات کے سر کے بال مونڈ دیئے۔

 متاثرہ خاتون کی درخواست پر پولیس نے اس کے شوہر کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ ملزم کے بقول اس کی بیوی اور وہ دونوں آئس ہیروئن اور دیگر جدید نشے استعمال کرنے کے عادی ہیں، اور یہ کہ اس کی اہلیہ کا کردار درست نہیں اور وہ اسے بلیک میل کرتی تھی۔

 ملزم نے دعویٰ کیا کہ وہ متاثرہ خاتون کے خلاف ثبوت منظر عام پر لائیں گے۔ تاہم سوائے ایک گاڑی میں دوستوں کے ساتھ ڈانس کرنے کی ویڈیو کے تاحال کوئی چیز سامنے نہیں آ سکی۔

فرض کیا کہ خاتون نشہ کرتی تھی، ناچ گانے کی شوقین بھی تھی، اگر خاوند کو ان حرکات سے اعتراض اور کردار پر شک تھا تو دینی اور قانونی طور پر علیحدگی اختیار کرسکتا تھا۔ لیکن اس نے مردانگی کے زعم میں بیوی کو بےدردی سے تشدد کا نشانہ بنایا اور اپنی جھوٹی انا کو تسکین پہنچانے کی ناکام کوشش کی۔

لاہور ہی میں یکے بعد دیگرے گھریلو تشدد کے اور بھی واقعات منظرعام پر آئے ہیں۔ حال ہی میں ایک اور واقعہ تھانہ گرین ٹاؤن کی حدود میں پیش آیا جہاں پرایک شوہر نے بیوی کو میکے والوں سے پیسے لانے کا کہا انکار پر بہمیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے ناک کی ہڈی توڑ دی ۔

رواں برس ملک بھر کے مختلف علاقوں میں عورتوں پر تشدد کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے۔ 23 مارچ  2019ء کو پشاور میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے بال کاٹ کر اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ ایک شادی کی تقریب کے دوران اس بیوی کے سر سے دوپٹہ ہٹ گیا تھا۔

ہر سال پاکستان میں خواتین پر تشدد کے درجنوں مقدمات درج ہوتے ہیں، جبکہ مختلف وجوہات کی بناء پر رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد ہزاروں میں نہ سہی مگر سینکڑوں میں تو لازمی ہے تاہم مایوس کن امر یہ ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ان واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔

خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے اعداد و شمار مطابق سال 2018ء کے دوران صرف صوبہ پنجاب میں 190 خواتین کو قتل کیا گیا، گزشتہ برس 181 حوا کی بیٹیوں کو ہوس کے پجاریوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور 39 خواتین پر گھریلو تشدد رپورٹ ہوا۔

گزشتہ سال خواتین کو سوشل میڈیا پر ہراساں کئے جانے کے 2 ہزار 72 جبکہ دفاتر اور دیگر مقامات پر ہراسگی کے 34 سو 5 واقعات رپورٹ ہوئے، متعدد پر تیزاب پھینکا گیا۔ ماہرین کے مطابق خواتین کا استحصال ختم کرنے کے لیے متعلقہ قوانین پر عملدرآمد بھی اہم ہے۔

خواتین پر تشدد کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کے لئے نہ صرف آگاہی کی ضرورت ہے، بلکہ موثر قانون سازی کے تحت سخت سزائیں اور متعلقہ قوانین پر عملدرآمد نہایت ضروری ہے۔

Comments are closed.