پاکستان میں گزشتہ برس انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں

اسلام آباد: انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق سالانہ رپورٹ 2018  جاری کر دی ہے۔ جس میں کہا گیا ہےکہ عام انتخابات کےسال میں اگرانسانی حقوق کےمعاملات پرپیشرفت اورانکے تحفظ کو مکمل طورپرپس پشت نہیں بھی ڈالا گیا تو ان سے توجہ ضرور ہٹائی گئی۔

عام انتخابات 2018 قبل ازانتخاب، پولنگ کے روز دھاندلی جیسے الزامات اور تشدد کے بعض خوفناک واقعات کی لپیٹ میں رہے، اس کے باوجود عام نشستوں پر خواتین امیدواروں کی تعداد گزشتہ انتخاب سے زیادہ تھی اور ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ خواجہ سراء امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔

رپورٹ کے مطابق آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کی جس طرح کھلم کھلا پامالی کی گئی، اس کی نظیرنہیں ملتی، اورمزید یہ کہ ”قومی سلامتی کے خدشات” کے  نام پر ذرائع ابلاغ کی کوریج پرپابندیاں لگائی گئیں، صحافیوں نے بڑی حد تک سیلف سنسرشپ اختیارکی، ایک قومی اخبارکی ترسیل بہت زيادہ گھٹادی گئی اورذرائع ابلاغ میں بعض واقعات کی کوریج پرمکمل پابندی عائد کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2018 کا آغاز چھ سالہ بچی زینب کے ساتھ خوفناک جرم سے ہوا،جس جلدی سے مجرم کو سزا دی گئی اس کی بنیادی وجہ عوام  کا غم و غصہ تھا۔ تاہم مجرم کو دی جانے والی سزا جرائم کی راہ میں حائل نہ ہوسکی اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی اورتشدد کی اطلاعات مسلسل ملتی رہیں۔

 جبری گمشدگیوں ماورائے عدالت قتل، بچوں کے ساتھ زیادتی اوران کا قتل، عورتوں پر تشدد، بچوں سے مشقت، مذہبی عدم رواداری، اقلیتوں کے ساتھ ظلم، غیرت کے نام پر جرائم کی اطلاعات نے عوام کے ضمیر کو ہلا کررکھ دیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس بھی عورتیں، بچے اورمزدوربہت زیادہ غیرمحفوظ رہے۔ ایچ آرسی پی نے جو کوائف مرتب کیے ہیں ان کے مطابق عورتوں پرجنسی تشدد کے845 واقعات پیش آئے جب کہ 316   مرد و خواتین کو غیرت کے نام پر مختلف جرائم کا نشانہ بنایا گیا۔  تھر، سندھ میں 638 بچے غذائی کمی کے باعث ہلاک ہوئے۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان بلوچستان اوردیگرصوبوں میں کئی کان کن جان لیوا حادثات میں اپنی زندگی سے گئے جبکہ جائے روزگارپر حفاظت اورصحت کے معیارات کے نفاذ پرکوئی پیش رفت نظرنہیں آئی۔ اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق، اندازاً، ایک کروڑ، 20 لاکھ بچوں سے مشقت کروائی جارہی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اندازاً 16,136 آئی ڈی پیز خاندان ابھی تک اپنے علاقے میں واپس نہیں گئے۔ یہ تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔

واحد مثبت پیش رفت سپریم کورٹ سے آسیہ بی بی کی رہائی تھی، مگرعدالتی فیصلے کے خلاف پھوٹنے والے تشدد کو صرف اس وقت ہی دبایا جاسکا جب ‘ معاہدہ’ طے پایا تھا۔

 ایگزٹ کنٹرول لسٹ کا حد سے زیادہ اور من مانا استعمال خبروں کی زینت بنتا رہا۔ ریلیوں کو روکنے یا ان میں خلل ڈالنےکے لیے انتخابات  سے قبل کارکنوں کو پہلے سے حراست میں لیا جاتا رہا۔

عدالت عظمیٰ کی مداخلت کو بہت زیادہ توجہ ملتی رہی، مگرفوجداری نظام انصاف میں اصلاح کے دیرینہ معاملے سے چشم پوشی جاری رہی اورتمام عدالتوں میں جمع ہونے والے مقدمات کی تعداد قابو سے باہرتھی۔

سال کے اختتام تک 250 سے زائد ماتحت، خصوصی اور اعلیٰ عدالتوں میں 19 لاکھ مقدمات زیرالتوا تھے۔ سال کے اختتام پر 4,688 قیدی سزائے موت کے منتظر تھے اور2014 کے بعد سے اب تک کم ازکم 500 کو پھانسی لگا دی گئی تھی جن میں سے 14 کو 2018 میں پھانسی دی گئی۔

Comments are closed.