آئی ایم ایف سے پاکستان کو 6 سے 8 ارب ڈالرز کا پیکج ملے گا، وزیر خزانہ

اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں۔ آئی ایم ایف وفد رواں ماہ پاکستان آئے گا۔پاکستان کو 6 سے 8 ارب ڈالرز کا پیکج ملے گا۔پیکج کی مدت 3 سال ہوگی۔ وزیرخزانہ اسد عمر کہتے ہیں معاہدے کے بعد زرمبادلہ ذخائر پر 2016 سے جاری دباؤ کم اور ملک میں معاشی استحکام نظر آئے گا۔وزیرخزانہ نے آئی ایم ایف مذاکرات سے وزیراعظم کو بھی آگاہ کردیا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرت میں معاملات طے پا گئے، رواں ماہ بیل آوٹ پیکج پر دستخط کا امکان ہے، تین سال کے لیے 6 سے 8 ارب ڈالرز ملیں گے۔ اسد عمر کا معاہدے سے پہلے تفصیلات بتانے سے صاف انکار  جب کہ مہنگائی میں اضافے کے خدشے کا اظہار کیا وزیراعظم کو بھی آئی ایم مذاکرات سے آگاہ کردیا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ، معاہدے کے بعد زرمبادلہ ذخائر پر 2016 سے جاری دباؤ کم اور ملک میں معاشی استحکام نظر آئے گا۔نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ 15 دنوں کے لیے ادائیگیوں کے پیسے موجود نہیں تھے ،اب بحران کی کیفیت سے نکل چکے ہیں۔

 وزیر خزانہ اسدعمر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے سربراہ سے ملاقات میں پاکستان کوموقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔۔دفاعی بجٹ میں کمی کا کوئی ارادہ نہیں۔۔ ہمارا جواب آج شام تک ایف اے ٹی ایف کو بھیج دیا جائے گا۔ دوسری جانب دنیانیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں آئی ایم ایف سے طے پانے والے معاملات ،ایف اے ٹی ایف کی تجاویز اور اہداف پرعملدرآمد میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔۔ وزیر اعظم سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حتمی مسودہ پر بھی تبادلہ خیال ہوا،، ایک سوال کے جواب میں اسد عمر کاکہناتھا کہ کم از کم آج کی ملاقات میں وزیراعظم سے وزارت تبدیلی کے حوالے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

Comments are closed.