بارسلونا کے سیٹھ اور عام پاکستانی

تحریر: وسیم رزاق، بارسلونا

گھر سے دور پردیس میں رہنا آسان کام نہیں، اس کے باوجود کئی پاکستانی اپنے پیاروں کی خوشی اور بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے بیرون ملک جاتے ہیں۔ ایسے میں ان کی اپنی زندگی کتنی کٹھن اور دشوار ہو جاتی ہے اس کا شاید پاکستان میں رہنے والے اندازہ نہیں کر پاتے۔

پاکستانی تارکین وطن کیلئے اسپین ایک پرکشش منزل تصور ہوتی ہے، جہاں پر 82 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں، اسپین میں بسنے والے پاکستانیوں کو تین کیٹگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ جن میں پاکستانی سیٹھ اور بڑا کاروباری طبقہ، ملازمت پیشہ قانونی تارکین وطن اور غیرقانونی طور پر مقیم پاکستانی شامل ہیں۔ دیگر اقوام کے برعکس پاکستانی سیٹھ اور بڑا کاروباری طبقہ اپنے ہم وطنوں کی مدد اور انہیں آگے بڑھنے میں مدد کی بجائے دیار غیر میں بھی ان کے استحصال کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

بارسلونا میں پاکستانی سیٹھ حضرات نے کاروباری کمپنیاں جنہیں مقامی زبان میں ایمپریسے کہا جاتا ہے بنا رکھی ہیں۔ ان کمپنیوں کے نام تو ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن کام کا طریقہ کار ایک ہی ہے بلکہ مجبور پاکستانیوں کے استحصال میں ایک دوسرے کو مات دیتے ہیں۔

زیادہ تر پاکستانی آجر اپنے ایمپریسے میں کام کرنے والے ہم وطنوں سے 12 سے 14 گھنٹے کام لیتے ہیں جبکہ ہفتہ وار چھٹی بھی نہیں دیتے، کاغذات نہ رکھنے والے ورکر کو 300 سے 600 یورو ماہانہ تنخواہ دے کر احسان جتلایا جاتا ہے کہ فلاں پاکستانی کمپنی کا مالک تو ورکر کو تنخواہ ہی نہیں دیتا۔

کاغذات رکھنے والے اسپین میں قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی حالت بھی زیادہ مختلف نہیں، پاکستانی کمپنیوں کے مالکان ایسے ملازمین سے 4 گھنٹے کے کام کا معاہدہ کرتے ہیں لیکن کام 12 گھنٹے لیا جاتا ہے، چار گھنٹے کام کے معاہدے سے سیٹھ حضرات اپنا ٹیکس بھی بچاتے ہیں تنخواہ بھی کم دینا پڑتی ہے، اوور ٹائم کی بھی پریشانی سے بھی چھٹکارا مل جاتا ہے، الغرض ہر طرح سے فائدہ سیٹھ ہی اٹھاتا ہے۔

اللہ کے نبیؐ کا فرمان ہے کہ :

مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو۔۔۔۔ ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ مجبور کا حق نہ کھاؤ۔

لیکن خود کو مسلمان کہنے کہلانے والے یہ سیٹھ اپنے ہی مسلمان اور ہم وطن بھائیوں کا حق مارنے میں کسی صورت پیچھے نہیں رہتے، یہ طبقہ پیسے کے بل بوتے پر چیمبر آف کامرس، قونصلیٹ جنرل میں خاص مقام پاتا ہے تو غیرجانبدارانہ صحافت کے علمبردار کئی صحافی بھی ان سیٹھ حضرات کے گن گاتے نہیں تھکتے۔

بارسلونا میں مقیم عام پاکستانی غیرمسلم اسپینش کمپنی مالکان کے پاس کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور اپنے ہم وطن کاروباری شخصیات کے پاس ملازمت سے پناہ مانگتے ہیں، جو اس سیٹھ طبقے اور بحیثیت قوم پاکستانیوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

وسیم رزاق پاکستان میں براڈ کاسٹ جرنلزم کا تجربہ رکھتے ہیں، وہ پاکستان کے صف اول کے ٹی وی چینلز کے ساتھ منسلک رہے، اب وسیم رزاق نیوز ڈپلومیسی ویب سائٹ، این ڈی ٹی وی اور میگزین کے اسپین میں اسٹیشن ہیڈ کے طو پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.