حریت قیادت، کارکنوں کی گرفتاری بھارتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، مسعود خان

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدرسردارمسعود خان نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں قید حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک کو انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جھوٹے مقدمات میں گرفتار سیاسی قیدیوں کو جیلوں میں حبس بے جا میں رکھنا، کھانے پینے اور رہائش کی ناکافی سہولتیں دینا بھارتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔

سردار مسعود خان نے کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں قید سیاسی رہنماؤں کو صحت کی ناکافی سہولتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات میں گرفتار سیاسی قیدیوں کو جیلوں میں حبس بے جا میں رکھنا اور کھانے پینے اور رہائش کی ناکافی سہولتیں فراہم کرنا نہ صرف قابل مذمت عمل ہے بلکہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔

صدر آزاد کشمیر نے بھارت کے سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کے اسی ہزار اہلکاروں کو امر ناتھ یاترا سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر مذید کچھ عرصہ کے لیے مقبوضہ کشمیر میں رکھنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اسی ہزار نیم فوجی اہلکاروں کو مقبوضہ کشمیر میں جعلی انتخابات کے دوران بلایا تھا اور اب اس پیرا ملٹری فورس کو مستقل کشمیر میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

صدر سردار مسعود خان نے مطالبہ کیا کہ سرینگر کی جامع مسجد کو رمضان المبارک کے دوران نمازیوں کے لیے کھلا رکھا جائے اور مسجد کے اردگرد رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کے ایک اعلیٰ پولیس آفیسر کی نگرانی میں کشمیری خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعہ کی بھی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس انسانیت سوز واقعہ کی تحقیقات کر کے حقائق سے دنیا کو آگاہ کریں۔

صدر آزاد کشمیرنے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ترال قصبہ میں گھر گھر تلاشیوں اور محاصروں کے دوران متعدد شہریوں کی گرفتاری کو بھارتی حکمرانوں کی بوکھلاہٹ قرار دیا۔ انہوں نے شوپیاں میں دو نوجوانوں کی شہادت پر بھی گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ظلم و جبر کے ہتھکنڈے کشمیریوں کو جدوجہد آزادی اور حق خود ارادیت کی تحریک سے نہیں روک سکتے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے تمام تر ظلم و ستم کے باوجود یہ عزم اور تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ بھارت سے مکمل آزادی تک اپنی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھیں گے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر قسم کی قربانی دیں گے۔

Comments are closed.