آئی ایم ایف سے معاہدہ طے، پاکستان کو تین سال میں 6ارب ڈالر ملیں گے، حفیظ شیخ

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان دو ہفتے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد قرض پروگرام پرمعاہدہ طے پا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے توثیق کے بعد ‏معاہدے پرعملدرآمد ہوگا، جس کے تحت تین برسوں کے دوران پاکستان کو6ارب ڈالر ملیں گے۔

پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے چودہویں روزمعاہدے پر اتفاق رائے ہوا، جس کے بعد مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کافی مہینوں کے مذاکرات کے بعد بالآخر آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا ہے، آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ پاکستان سے معاہدے کی منظوری دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا مقصد رکن ملک کو مشکل میں مدد کرنا ہے۔

مشیرخزانہ نے بتایا کہ پاکستان کا درآمدات اور برآمدات میں 20ارب ڈالر کا فرق تھا، غیرملکی قرضے 90ارب ڈالر سے بڑھ گئے تھے، معیشت کو سنبھالنے کے لیے تین سال کے دوران 6ارب ڈالرآئی ایم ایف سے ملیں گے، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے اضافی 2 سے 3 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ بہت سے معاملات پاکستان میں درست طریقے سے نمٹائے نہیں گئے، بہت سے شعبوں میں حیثیت سے زیادہ اخراجات کیے، پاکستان میں ہر دور میں برآمدات نہیں بڑھ سکیں۔ امیر طبقے کیلیے سبسڈی ختم کرنا جب کہ بجلی سمیت کچھ شعبوں میں قیمتیں بڑھانی ہوں گی، تین سو یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین پر اس کا اثر نہیں ہوگا، لائف لائن صارفین کے لیے216ارب روپے سبسڈی رکھی جائیگی۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت پاکستان کو ‏آئندہ بجٹ مالیاتی خسارے میں صفراعشاریہ 6 فی صد کمی کرنا ہوگی، ‏حکومت معاشی اہداف کےلیے ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس مراعات ختم کرے گی۔اور اصلاحات کے ذریعے ٹیکس نظام کوبہتربنائےگی۔ پاکستان اخراجات میں کمی اور اہم ترقیاتی منصوبوں پرکام جاری رکھے، مارکیٹ کا تعین کردہ ایکسچینج ریٹ طریقہ کاراپنایا ، ڈالر کا ایکس چینج ریٹ مارکیٹ کے طے کرنے سے مالی شعبےمیں بہتری آئےگی، ‏حکومت نےاسٹیٹ بینک کی خودمختاری قائم رکھنےکی یقین دہانی کرائی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ‏حکومت پاکستان غریبوں کی مدد کرے گی، اس مقصد کے لیے بے نظیرانکم سپورٹ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، سبسڈی کوصرف غریبوں تک محدودکرناہو گا، ‏ملک میں معاشی ترقی کےلیےاصلاحاتی پروگرام پراتفاق کیاگیاہے، ‏صوبوں کےساتھ مل کرقومی مالیاتی کمیشن اجلاس میں محاصل کی تقسیم نوپرغورکیاجائےگا۔

Comments are closed.