کشمیر پریشر ککر بن چکا ہے،کچھ بھی ہوسکتا ہے، ارون دھتی رائے

نئی دہلی: معروف بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے نے کہا ہے کہ کشمیر ایک پریشر ککر بن چکا ہے وادی میں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ پلواما حملہ ایک ڈرامہ تھا جسے بھارتی آرمی چیف بھی جانتے ہیں۔ بھارت میں قوم پرستی کو بڑھاوا دے کر ہندو ووٹ کو اکٹھا کیا جا رہا ہے

امریکی ٹی وی کو انٹریو دیتے ہوئے ارون دھتی رائے کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جوحالات ہیں۔ وہاں کہیں بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے، جموں و کشمیر ایک پریشر ککر کی طرح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں زیادہ سے زیادہ نوجوان عسکری تحریک کا حصہ بن رہے ہیں، یہ سب بھارت کی سیاسی صورت حال کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

بھارتی مصنفہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہندوتوا پروان چڑھ رہا ہے، تاکہ ہندو ووٹ کو اکٹھا کیا جا سکے اس کے بعد کچھ بھی ہوسکتا ہے، بھارت میں میڈیا کا ماحول بھی ایسا ہے، جو24 گھنٹے صرف قوم پرستی کو بڑھاوا دے رہا ہے، اسے سچ اورجھوٹ کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملے سے پہلے بھارتی چیف جانتے تھے کہ حملہ ہونے والا ہے اسی لیے انہوں نے کہا ہونے دو دیکھا جائے گا اس سارے معاملے کو انتخابی مہم کے لیے استعمال کیا گیا۔

Comments are closed.