نیب سیاستدانوں کو بدنام، احتساب صرف ن لیگ کا کر رہا ہے، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو سیاستدانوں کو بدنام کر رہا ہے، صاف الفاظ میں کہا گیا کہ ن لیگ کا سب سے پہلے احتساب کرنا ہے جس نے جان بچانی ہے حکومتی بینچوں پر چلا جائے۔ گزشتہ چار دن میں نیب سے متعلق جو کچھ میڈیا پر آ رہا ہے اس پر انتہائی تشویش ہے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چیئرمین نیب نے ایک صحافی کو انٹرویو میں کہا شہباز شریف نے ان سے رابطہ کیا ہےاور شہباز شریف نے کہا کیس ختم کردیں تین شرائط پر پیسے واپس کردینگے۔ چیئرمین نیب کی شہباز شریف سے کوئی ملاقات ہوئی ہی نہیں۔  سوال یہ ہے کہ چیئرمین نیب جھوٹ بول رہے ہیں یا معروف صحافی کی باتیں غلط ہیں؟ جھوٹ کوئی بھی بول رہا ہو اس سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چیئرمین نیب کے بقول ان پر حکومت و دیگر حلقوں کی جانب سے دباؤ ہے ، انہیں رشوت کی پیشکش بھی کی گئی۔ جاوید اقبال نے ماضی میں نواز شریف پر چار ارب نوے کروڑ روپے بھارت بھجوانے کا الزام عائد جو جھوٹ ثابت ہوا۔ وقت آنے پر ثابت ہو جائے گا کہ چیئرمین نیب نے انٹرویو کیوں دیا۔

سابق وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ قومی احتساب بیورو نے بیورو کریسی کو مفلوج کرکے رکھ دیاہے۔ وہ نیب کو شفاف ادارہ نہیں سمجھتے۔ بیوروکریٹ احمد چیمہ سے متعلق کہا گیا کہ وہ تکبر کے مرتکب ہوئے، کیا تکبر کرنا نیب کے قانون میں جرم ہے؟ 22 گریڈ کے افسر کے فیصلے 12 اسکیل کا ملازم شروع کر دے گا تو ملک تباہی کی طرف جائے گا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا چیئرمین نیب نےاپنی پریس کانفرنس میں  کہا کہ سیاستدان جیل میں جائیں گے مگر بزنس مینوں کو نہیں چھیڑیں گے۔ جس عہدے پر وہ ہیں کیا اس کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ میڈیا پر آ کر ایف اے ٹی ایف سے متعلق بات نہ کریں۔ چیئرمین نیب کوچاہیے تھا کہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے سیاست یا ملک کو نقصان پہنچے۔ ہم سے زیادہ احتساب کے حق میں اور کوئی نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جتنا چیئرمین نیب ملک کے ٹھیکیدار ہیں اتنا میں بھی ہوں،اس ملک کا وزیراعظم رہا ہوں،8 گوشوارے نیب کو دیے ہیں، میرے خلاف سینکڑوں ملازمین کو بلایا گیا،کہا گیا کہ کوئی بات بتائو اس آدمی کو پکڑنا ہے۔ آئیں مجھے پکڑ لیں مگر ملک کو تباہ نہ کریں۔

Comments are closed.