کشمیری بچی آصفہ زیادتی و قتل کیس میں 6 افراد پر جرم ثابت

نئی دہلی: بھارت کی خصوصی عدالت نے معصوم کشمیری بچی آصفہ زیادتی و قتل کیس میں 6 ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر مجرم قرار دے دیا۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں زیادتی کے بعد بیدردی سے قتل کی گئی 8 سالہ معصوم بچی آصفہ کے کیس میں بھارتی پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ میں خصوصی عدالت نے مرکزی ملزم سنجے رام سمیت 6 افراد کو مجرم قرار دے دیا جبکہ سنجے رام کے بیٹے وشال کو بری کردیا ہے۔ مجرم قرار دیے گئے افراد میں سنجے رام، بیٹا وشال، بھتیجا آنند دتا، 4 پولیس افسران دیپک کھجوریا، سریندر ورما، تلک راج اور آنند دتا شامل ہیں۔

کشمیری بکروال خاندان سے تعلق رکھنے والی معصوم آصفہ کو رواں سال جنوری میں اغوا کر کے مندر کے تہہ خانے میں چار روز تک اجتماعی درندگی کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد بچی کو پتھروں سے مار مار کر بہیمانہ انداز میں قتل کرکے لاش کھائی میں پھینک دی گئی تھی۔

اس معاملے میں افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ مسلم دشمنی میں ہندو انتہا پسندوں نے مجرموں کی کھل کر حمایت کی تھی اور سڑکوں پر نکل کر ان کے حق میں احتجاج کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندو انتہا پسندوں کے رکاوٹ بننے کے باعث اس کیس کو پنجاب منتقل کردیا گیا تھا۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ بچی کے قتل کا واقعہ دراصل بکروالوں کو کٹھوعہ کے علاقے سے نکالنے کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا۔

Comments are closed.