غیرمسلم حکومت کی ایماندری سے پریشان مسلمان سیٹھ طبقہ

تحریر: وسیم رزاق، بارسلونا

وہ آگیا ہے ۔۔۔اب کیا ہو گا۔۔۔؟ اس سے کیسے بچاجاسکتا۔۔۔ ؟ ایسے الفاظ آج کل اسپین کے شہر بارسلونا میں ہرپاکستانی نژاد کاروباری شخصیت اور سیٹھ کی زبان پر ہیں۔

پاکستانی سیٹھ طبقے کی اس بے چینی کی وجہ اسپین حکومت کی جانب سے منظور کیا جانے والا ورکر/لیبر دوست قانون ہے، ہسپانوی پارلیمان سے اس قانون کے منظور اور رائج ہونے کے ساتھ ہی ورکر دشمن ذہنیت کے مالک سیٹھ طبقے کی نیندیں اڑ گئی ہیں اور عجیب بے چینی کے عالم میں ہیں۔

حالانکہ کاروباری شخصیات غیرجانبداری کے چشمے سے دیکھیں تو یہ قانون ورکر دوست تو ہے لیکن کسی صورت سرمایہ داروں کے خلاف نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس قانون کے ذریعے غریب مزدور کا ہونے والا استحصال بڑی حد تک ختم ہونے کی توقع ہے۔ اور یہی چیز سیٹھ طبقے کو چین سے نہیں بیٹھنے دے رہی۔

درحقیقت وہ سیٹھ طبقہ جس نے ہمیشہ غریب ورکر کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھایا۔۔۔ برسوں تک کم اجرت میں زیادہ کام لیا ۔۔۔ ہفتہ وار چھٹی کے بنیادی حق سے اپنے ملازم کو محروم رکھا ۔۔۔۔ورکر کی تنخواہ سے ٹیکس کی مد میں کی جانے والی کٹوتی کو اپنی تجوری تک محدود کردیا ۔۔۔۔۔ ایسے سیٹھ کو اچانک ان ہتھکنڈوں سے باز رہنے کا کہہ دیا جائے تو یک لخت یہ سب چھوڑنا مشکل تو ہے۔

اسپین کی حکومت بھی سیٹھ طبقے کی اس ذہنیت کو جان گئی ہے شاید اسی وجہ سے اسپین کے محکمہ محصولات جسے مقامی زبان میں اسیندا کہا جاتا ہے نے ایسا قانون بنایا جس سے مزدور کا خون نچوڑنے والے سرمایہ داروں کا بچنا مشکل ہے۔ اس قانون کے تحت متعلقہ ادارے کی جانب سے ہر کاروباری شخصیت اور سیٹھ کو اپنے وکلا کے ذریعے کاروبار، ملازمین اور ان کے اوقات کار کی تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔معلومات نہ دینے یا غلط بیانی کرنے والوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔

اس قانون سے ورکر کو یہ فائدہ ہو گا کہ چار گھنٹے کا ملازمت کا معاہدہ کرکے مجبور ملازم کا 12، 14 گھنٹے خون نچوڑنے والے سیٹھ حضرات طے شدہ اوقات سے آگے پیچھے نہیں ہو سکیں گے۔ بروقت تنخواہ کی ادئیگی کے ساتھ ٹیکس کٹوتی بھی سرکاری خزانے میں جمع کرانا پڑے گی، ملازم کو ہفتہ میں دو چھٹیاں ہوں گی۔ خلاف ورزی پر ملازم اپنے مالک کی شکایت کر سکے گا، ان اقدامات سے بالواسطہ یا بلاواسطہ ورکر کو فائدہ ہوگا۔

بڑی بڑی کاروباری شخصیات اور سیٹھ حضرات جو سیاسی حلقوں میں بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں ان کی خواہش تو یہی ہے کہ کسی طریقے سے اس قانون سے مکمل یا جزوی طورپر جان چھڑائی جا سکے لیکن کیا کریں یورپی ممالک کے قوانین ہیں۔ قانون بنانے والے اس پر عملدرآمد کروانا بھی جانتے ہیں، اسی لیے معائنہ کار ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں جو کہ سرکاری تعطیلات کے بعد چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کریں گی۔ قانون شکنوں کو سبق سکھانے کے لیے چھاپہ مار ٹیم کو  650 سے 6000 یورو تک جرمانے کا اختیار بھی ہوگا، دو مرتبہ خلاف ورزی کرنے والے کو 11 گنا تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔

موجودہ صورتحال میں عام ورکر یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ان کے مالکان ٹیکس دیں گے؟ غریب اور مجبور ملازم کا استحصال بند کیا جائے گا؟ سیٹھ حضرات ایمانداری کو اپناتے ہوئے قانون پر مِن و عَن عملدرآمد کریں گے یا پھروکلا سے مشاورت کر کے قانون سے بچنے کے لیے چور راستے ڈھونڈیں گے۔ ایک طرف غریب اور مجبور ورکر کے حق میں قانون بنانے والی غیر مسلم حکومت ہے اور دوسری جانب ملازمین کا استحصال کرنے کے عادی مسلمان سیٹھ طبقہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں جیت ایمانداری اپنانے کا موقع دینے والی غیرمسلم سرکار کی ہوتی ہے یا پھر خود کو پیارے نبیؐ کا امتی کہنے والے مسلمان سیٹھ حضرات کی۔

کیا مالکان ٹیکس دیں گے۔۔۔ عام آدمی کا استحصال بند کریں گے ۔۔۔ کیا ایماندری کو اپنائیں گے؟ لیکن اس کے ساتھ ایک سوال یہ بھی جنم لیتاہے کہ وہ ایسا کیوں کریں گے۔۔ مالکان کی وکلا سے مشاورتیں جاری ہیں بچنے کے طریقے ڈھونڈے جارہے ہیں ۔۔۔ جیت کس کی ہوگی ایمانداری کی یا پھر بے ایمانی کی کچھ نہیں کہہ سکتے۔۔۔

وسیم رزاق پاکستان میں براڈ کاسٹ جرنلزم کا تجربہ رکھتے ہیں، وہ پاکستان کے صف اول کے ٹی وی چینلز کے ساتھ منسلک رہے، اب وسیم رزاق نیوز ڈپلومیسی ویب سائٹ، این ڈی ٹی وی اور میگزین کے اسپین میں اسٹیشن ہیڈ کے طو پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

Comments are closed.