تعلیم اورصحت پی ٹی آئی کی بھی ترجیح نہ رہے، بجٹ میں نمایاں کمی

اسلام آباد: صحت اور تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کا انتخابی نعرہ کے ساتھ حکومت میں آنے والی تحریک انصاف نے دونوں شعبوں کے بجٹ میں غیر معمولی کمی کردی ہے۔ تبدیلی سرکار کی جانب سے شعبہ تعلیم کے بجٹ میں 20 ارب سے زائد جب کہ شعبہ صحت کے بجٹ میں پونے 3 ارب روپے سے زائد کی کمی کی گئی ہے۔

تعلیم کے شعبے کیلئے گزشتہ مالی سال میں 97 ارب 42 کروڑ روپے رکھے گئے جس میں حکومت سنبھالتے کے بعد تحریک انصاف حکومت نے ترمیم شدہ بجٹ میں 26 کروڑ 50 لاکھ روپے کاکٹ لگایا۔ اب سال 2019-20 کے بجٹ میں شعبہ تعلیم کے لیے صرف 77 ارب 26 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے موازنہ کیا جائے تو صرف تعلیم کے لئے مختص بجٹ میں تحریک انصاف حکومت نے 20 ارب 15 کروڑ 80 لاکھ روپے کی کمی کی ہے۔ تعلیم کے لیے مختص کل رقم کا 84.4 فیصد یعنی 65 ارب 23 کروڑ 30 لاکھ روپے اعلیٰ تعلیم پر خرچ کیے جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کے دعوؤں کے برعکس پرائمری اور قبل از پرائمری تعلیم کے امور کیلئے صرف 2 ارب 83کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں حالانکہ ان امور کے لیے مسلم لیگ ن کی حکومت نے 10 ارب، 12 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔

اسی طرح حکمران جماعت نے نئے بجٹ میں صحت کے شعبے کیلئے بجٹ میں بھی کٹوتی کی ہے، گزشتہ مالی سال کے 13 ارب 89 کروڑ 70 لاکھ روپے کے صحت کے بجٹ کو آئندہ مالی سال کے لیے کم کر کے 11 ارب 5 کروڑ 80 لاکھ روپے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر صحت کے بجٹ میں 2 ارب 83 کروڑ 90 لاکھ روپے کی کمی کی گئی ہے۔

صحت کا ترقیاتی بجٹ 25 ارب سے کم کر کے 13 ارب روپے کر دیا گیا ہے جب کہ پی ایس ڈی پی میں ہائیرایجوکیشن کمیشن کا بجٹ بھی 6 ارب روپے سے زائد کی کمی کے بعد 29 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

Comments are closed.