40 ہزار کے انعامی بانڈز کی رجسٹریشن لازم،بے نامی بانڈ نہیں چلے گا

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایمنسٹی اسکیم پر عملدرآمد تیز کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے، 40 ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز کی شکل میں کالادھن چھپانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے بانڈز کی ملکیت ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک انعامی بانڈز سے متعلق جلد سرکلر جاری کرے گا۔

چالیس ہزار روپے مالیت کے انعامی بانڈز کی ملکیت کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی ہے، اس اقدام سے بڑے بانڈز کے ذریعے کالا دھن چھپانے کا سلسلہ بند کیا جا سکے گا۔ اسٹیٹ بینک دو روز کے اندر بانڈز ملکیت سے متعلق قواعد واضح کرے گا جب کہ 30 ستمبر کے بعد 40 ہزار والے بے نامی بانڈز ختم کر دیئے جائیں گے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ایف بی آر کو 17 جون تک 40 لاکھ نان فائلرز افراد کا ڈیٹا فراہم کرے گا، جن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کیلئے 5 ہزار افراد نے درخواستیں جمع کرائی ہیں، اور اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بانڈ رجسٹر ہونے سے ایمنسٹی حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، ایف بی آر نے مہنگی کاریں خریدنے اور فضائی سفر کرنے والوں کا ڈیٹا بھی حاصل کر لیا۔ ایف بی آر کے مطابق ہرشخص نادرا کے پاس موجود اپنا معاشی ڈیٹا 500 روپے فیس دے کر حاصل کر سکتا ہے، جب کہ ایف بی آر کے پاس موجود افراد کا ڈیٹا آن لائن مفت دیکھا جا سکتا ہے۔

Comments are closed.