قومی اسمبلی میں اپوزیشن وحکومتی اراکین کا شور شرابہ، بجٹ اجلاس ہنگامے کی نذر

اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس ہوا جو حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے شور شرابے کی نذر ہوگیا اور ایوان زیریں کا اجلاس بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردیا گیا۔

اسپیکراسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اسد قیصر نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو بات کرنے کا موقع دیا تو حکومتی ارکان نے شور مچانا شروع کردیا، فواد چوہدری، غلام سرور اور راجہ ریاض اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور اسپیکر سے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے حکومتی ارکان کے رویے کو نامناسب قراردیا۔ اسپیکرقومی اسمبلی نے حکومتی ارکان سے کہا کہ تشریف رکھیں، اپوزیشن لیڈر کو بجٹ پربحث کا آغاز کرنے دیں۔

پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت کو پارلیمانی روایات کا علم نہیں، اسے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، آپ تو کنٹینر دینے جارہے تھے، ایک ڈائس سے ڈر گئے۔ تاہم اسد قیصر ایوان کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔ ایوان میں شور شرابا اور ہنگامہ آرائی پر اسپیکرنے اجلاس کی کارروائی دو بار ملتوی کی۔

جمعے کی نماز کے بعد ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے قومی اسمبلی کی کارروائی کا تیسری بار آغاز کیا تو ایوان میں دوبارہ سے شورشرابا اور ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ شہبازشریف کا خطاب شروع ہوتے ہی وزراء اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اوروفاقی وزیرفواد چوہدری نے پوائنٹ آف آرڈرپر بات کرنے کا مطالبہ کیا۔

شہباز شریف تقریر کا آغاز کرتے تو حکومتی بینچز سے ہنگامہ دوبارہ شروع ہوجاتا جس پر اپوزیشن لیڈر بار بار بیٹھ جاتے۔ شہباز شریف کم از کم 8 سے 9 بار اپنی نشست پر بیٹھے اور قاسم سوری انہیں بہت مشکل سے دوبارہ تقریر کرنے پر آمادہ کرتے۔ کبھی حکومتی ارکان شور کرتے تو کبھی اپوزیشن ہنگامہ آرائی کرتی۔شہباز شریف نے کہا کہ اسپیکر بار بار مجھے اٹھا بٹھا کر میری کمر کا علاج کر رہے ہیں۔

جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے ارکان اسمبلی شہباز شریف کے پاس آئے اور ان سے وزیراعظم عمران خان کے خطاب میں صحابہ کرامؓ سے متعلق گفتگو کا معاملہ اٹھانے کو کہا، تاہم ڈپٹی اسپیکر نے جے یو آئی ف کے اراکین کو تنبیہ کرکے اپنی نشست پر بٹھادیا۔

ایم ایم اے ارکان بھی وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر پوائنٹ آف آرڈر مانگتے رہے۔ مولانا اسعد محمود نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے صحابہ کرامؓ کی شان میں مبینہ گستاخی پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

شہباز شریف نے ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ آپ میری جگہ جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر مفتی اسعد محمود کو بات کرنے کا موقع دیں، وہ ناموس صحابہ پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ڈپٹی اسپیکر نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ تقریر کریں پھر دیگر  کو بات کرنے دوں گا۔

احسن اقبال اور حناربانی کھر سمیت متعدد ارکان اسمبلی نے ایوان میں ہنگامی آرائی اور شور شرابے کی ویڈیو بنانا شروع کی تو ڈپٹی اسپیکرنے سختی سے منع کرتے ہوئے کہا کہ تنبیہہ کی کہ سارجنٹ ایٹ آرمز کے ذریعے موبائل فونز ضبط کروالیں گے۔

اسی دوران ایم ایم اے کے ارکان اسمبلی واک آؤٹ کرگئے۔ ایک موقع پر فواد چوہدری نے شہباز شریف کی نشست پر ہینڈ فری رکھا تو شاہد خاقان عباسی نے غصے میں وہ واپس فواد چوہدری کی طرف پھینک دیا۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری ایوان کی کارروائی پرامن انداز میں چلانے میں بے بس نظر آئے۔ تقریبا گھنٹے بھر تک یہی سلسلہ چلتا رہا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا۔

Comments are closed.