قومی ٹیم میں دھڑے بندی ۔۔ کپتان نے خبر کیوں لیک کی؟

تحریر: راجا محسن

جیت بہت سی خامیوں اور عیبوں پر پردہ ڈال دیتی ہے تاہم شکست بہت سے ایسے راز بھی سامنے لے آتی جو عام حالات میں سامنے نہیں آپاتے۔ ایسا ہی کچھ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی ہوا، روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی ٹیم کے ڈریسنگ روم کی باتیں بھی باہر نکل آئیں یا پھر ایک گروپ کی جانب سے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے جان بوجھ کر باہر نکالی گئیں۔

اس وقت پاکستان ٹیم میں چار گروپس ہیں، ایک کپتان سرفرازاحمد کا ہے جو کہ بیشتر ایسے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جن کی اپنی کارکردگی بھی کپتان سرفراز احمد جیسی ہی ہے،یعنی وہ بغیر کاکردگی کے ٹیم کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں، کپتان سرفراز احمد اپنے گروپ کے کھلاڑیوں کو یقین دہانیاں کراتے رہے ہیں کہ وہ بطور کپتان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں ٹیم میں شامل کرائیں گے۔

قومی ٹیم میں دوسرا گروپ کوچ  مکی آرتھر کا ہے، یاد رہے کہ مکی آرتھر کراچی کنگز کے بھی کوچ ہیں، مفادات کا ٹکرائو ان کی دونوں نوکریوں کا خاصہ بھی ہے اور وہ کراچی کنگز سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو ہمیشہ سے بغیر کارکردگی کے تحفظ دیتے آئے ہیں۔ فٹنس کا مسئلہ ہو یا کارکردگی کا ۔۔۔۔ مکی آرتھر ہمیشہ ان کے لیے الہ دین کا وہ چراغ ثابت ہوئے ہیں جس نے پلک جھپکتے ہی ان کا ہر مسئلہ اور پریشانی فورا حل کی ہے۔

مکی آرتھر گروپ میں شامل ہونے کے لیے کاکردگی سے زیادہ اچھی انگریزی ضروری ہے، انگریزی آپ کی فٹنس سے لے کر انتہائی ناقص کاکردگی پر بھی پردہ ڈال دے گی، اس گروپ کے سامنے سرفراز کپتان بھی بے بس ہیں۔ تیسرا گروپ چیف سلیکٹر انضمام الحق کا ہے جو اپنے بھتیجے کے ذریعے ٹیم کے لڑکوں کو انتخاب کی ضمانتیں دیتے رہے ان کا مقصد بھتیجے کو گرین شرٹس کا کپتان بنانا تھا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی تباہی میں کپتان کوچ اور چیف سلیکٹر نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا، اس دوڑ میں کوئی بھی پیچھے نہ رہا، تاہم سرفراز کپتان نےا س وقت اس دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا جب انہوں نے خود ٹیم کے حالات کی خبریں لیک کر کے نہ کھلیں گے نہ کھیلنے دیں گے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے خود کش حملہ کر دیا۔

اس حملے کا مقصد نوشتہ دیوار پڑھنے والے سرفراز احمد کی جانب سے کپتانی کی دوڑ میں شامل عماد وسیم، امام الحق اور بابراعظم کو پیغام دینا تھا کہ تم لوگ بھی بھگتو یہ نہ سمجھنا میں اکیلا جائوں گا،خبر دینے والے نے اپنی خبر میں سرفراز کی اتنی طرف داری کی کہ واضح طور پر لگا کہ یہ خبر کم اور بار بار ناکام رہنے والے سرفراز کپتان کی ترجمانی زیادہ تھی۔

ٹی وی انڈسٹری کی روایت یہاں بھی پروان چڑھی اور سب نے کاپی پیسٹ کرتے ہوئے ایک بار پھر سرفراز کپتان کو بچانے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا، خبر باہر آنے کے بعد انضمام الحق ٹیم کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ نکلے اور رشتہ داروں کے ہاں لندن میں جا کر پناہ لے لی۔ مکی آرتھر اپنا مستبل جانتے ہیں انہیں اب پاکستان ٹیم سے کوئی سروکار نہیں، انضمام اپنی آخری چال ہار بیٹھے کیوں کہ سرفراز نے خبر لیک کر کے انہیں دھوکہ دے دیا، مخصوص مافیا ایک بار پھر سرفراز کپتان کو بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

سرفراز کپتان کی انفرادی کاکردگی یا حادثاتی کپتانی کو دیکھا جائے تو اس میں چیمپئینز ٹرافی کی حادثاتی جیت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ٹیم مسلسل ناکامیوں کے نئے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ چئیرمین پی سی بی سارے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تینوں گروپس کا خاتمہ کریں اور عماد وسیم کی ان فٹ ہونے کے باوجود ٹیم میں شمولیت پر تحقیقات کروائیں۔

ساتویں نمبر پر تیز کھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے اس پوزیشن پر عماد وسیم کو کیوں مسلسل کھلا کر ٹیم کا تیا پانچا کیا گیا؟پی سی بی گورننگ بورڈ کے باغی گروپ کی سیالکوٹ ریجن اور اسلام آباد ریجن کے کھلاڑیوں کے ذریعے ملک کا نقصان کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔

سرفراز کپتان سے چھٹکارا بھی وقت کی ضرورت ہے، جبکہ چیف سلیکٹر انضمام الحق کی جانب سے دوبارہ ٹیم کی 2007 والی حالت کرنے اور ڈومیسٹک میں کامران اکمل اور عابد علی جیسے کھلاڑیوں کو رنز کرنے کے باوجود ٹیم میں شامل نہ کرنے پر کمیشن بنا کر ان پر پابندی عائد کی جائے۔

ملک کا نقصان کرنے میں تینوں گروپس کا برابر قصور ہے تینوں کو سزا ملنِی چاہیئے کیوں کے قوم اور ملک کی ٹیم کے ساتھ جو ان لوگوں نے کیا کسی غداری سے کم نہیں، اس موقع پر بھی اگر چئیرمین پی سی بی نے دلیرانہ فیصلے نہ کیے تو شاید پھر حالات کبھی ٹھیک نہ ہوں۔

Comments are closed.