اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی نئی رپورٹ بڑی کامیابی ہے،سردارمسعود خان

مظفرآباد: آزاد جموں وکشمیر کے صدرسردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی نئی رپورٹ بڑی کامیابی ہے، بھارت نے رپورٹ رکوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا،  اس رپورٹ کی روشنی میں انسانی حقوق کونسل کا کمیشن آف انکوائری بنانا نا گزیر ہو گیا ہے۔

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت نے اس رپورٹ کو التوا  میں رکھوانے، ختم کرنے اور رکوانے کے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کی ایک اور علامتی اہمیت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن نے اسے اُس دن جاری کیا جب لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کئے جانے والے برہان مظفر وانی کا تیسرا یوم شہادت منا رہے تھے اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں بند کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

صدر آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں خاص طور پر بھارتی فوج کی طرف سے طاقت کے اندھا دھند استعمال اور اس کے نتیجہ میں شہریوں کی شہادت بلا جواز گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی بلا روک ٹوک خلاف ورزیوں کو نا قابل تردید شواہد کے ساتھ واضح کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد گزشتہ تین سال میں 1253 افراد جن میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے کو بینائی اور بصارت سے محروم کیا گیا اور 11 ہزار لوگو ں کو 12 بور کے چھرے دار بندوق کی فائرنگ سے شدید زخمی کیا گیا۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر ایک ہزار افراد کو قتل اور اٹھائیس ہزار سے زیادہ کو زخمی کیا گیا۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ رپورٹ میں دیئے گئے اعداد و شمار ”مشت نمونہ  خروار است“ کے مصداق محض سرسری جائزہ  ہے کیونکہ رپورٹ لکھنے والوں کو بھارت نے مقبوضہ علاقے میں جانے سے روک دیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کی حقیقی صورتحال رپورٹ میں بیان کردہ حقائق سے کئی زیادہ سنگین اور تشویشناک ہے۔

رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کے لیے انسانی حقوق کے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن آف انکوائری کے قیام کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اس کمیشن کا قیام اب نا گزیر ہو چکا ہے۔

 انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کی روشنی میں کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین فی الفور منسوخ کئے جائیں اور پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیار کا استعمال فوری طور پر ترک کیا جائے۔ صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے اس مطالبہ کا بھی بھرپور خیر مقدم کیا جس میں اُنہوں نے بھارت سے کہا کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا احترام کرے جسے بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

Comments are closed.