کسی کو تیزاب سے جلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے ملزم کی رہائی کی درخواست مسترد کردی ہے عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی کو تیزاب سے جلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے متاثرہ فریق کی معافی کے باوجود ملزم سزا سے نہیں بچ سکتا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ملزم جاوید اقبال کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تیزاب گردی کے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ متاثرہ خاتون نے ان کے موکل کو معاف کردیا ہے۔ جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ تیزاب گردی کے کیس میں کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ متاثرہ خاتون بے شک معاف کردے لیکن قانون تیزاب گردی کے ملزم کو معاف نہیں کر سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیزاب گردی سے متعلق قانون انتہائی سخت ہے،کسی کو تیزاب سے جلانا قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ درخواست گزار نے خاتون کو تیزاب سے جلا کر بہت بڑا ظلم کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ کسی پر تیزاب پھینکنے کی سزا عمر قید ہے اور یہ ریاست کے خلاف جرم ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہو سکتا ہے متاثرہ خاتون کو دھمکا کر بیان دینے سپریم کورٹ بھیجا گیا ہو۔ انہوں نے ملزم کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون تیزاب سے چہرہ جلانے والے کو معاف نہیں کر سکتا۔

Comments are closed.