اضافی ٹیکس وصولی کیخلاف ملک بھر میں تاجر برادری سراپا احتجاج، کاروباری مراکز بند

کراچی/لاہور/ کوئٹہ/ پشاور/ گلگت :  وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ اضافی ٹیکسوں اور اس کی وصولی سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کے خلاف ملک بھر کی تاجر برادری آج ہڑتال کررہی ہے، ملک کے تمام بڑے شہروں میں کاروباری مراکز اور مارکیٹس بند ہیں، صرف کراچی میں آج کی ہڑتال سے معیشت کو 5 سے 7 ارب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔

حکومت کی معاشی پالیسیوں، نئے ٹیکسوں اور قواعد کے خلاف ملک بھر کی تاجر برادری آج سراپا احتجاج ہے، تاجروں کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ نے غریب عوام اور تاجر برادری کی چیخیں نکال دی ہیں اور حکومت عوام کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے سے انکاری ہے، اس سلسلے میں کئے گئے مذاکرات بھی حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ناکام ہوگئے ہیں۔ جس کے بعد انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے احتجاج کا راستہ اپنایا گیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آج کی ملک گیر ہڑتال وفاقی حکومت کو آئینہ دکھا دے گی۔

وفاقی دارالحکومت

حکومت کی جانب سے ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف وفاقی دارالحکومت کے تاجروں نے شٹرڈاون ہڑتال کر رکھی ہے۔ آبپارہ، جی 10، جی 11 ،ایف 10 مرکز ،فاروقیہ مارکیٹ، میلوڈی، جناح سپر اور ستارہ مارکیٹ سمیت شہر کے تمام کاروباری بڑے کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔

پنجاب

لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں بھی تاجر برادری اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہے تاہم کچھ تاجر تنظیمیں ہڑتال کے بجائے کاروبار کو رواں دواں رکھنے میں مصروف ہیں۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں انجمن تاجران اور پاکستان ٹریڈرز الائنس ہڑتال کے معاملے پر تقسیم ہوگئی ہیں۔ ہال روڈ، مال روڈ، لبرٹی مارکیٹ، بیڈن روڈ، اچھرہ،فیروز پور روڈ، صرافہ مارکیٹ اور جیل روڈ پر دکانیں مکمل بند ہیں جب کہ انارکلی، بادامی باغ، منٹگمری روڈ اور میکلوڈ روڈ میں تاجر تقسیم ہونے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہیں۔ جب کہ فلور ملز ایسوسی ایشن نے17 جولائی تک ہڑتال موخر کر دی ہے۔

راولپنڈی، پنڈدادن خان، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، مظفرگڑھ ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، چکوال، خانیوال، ساہیوال:ہڑپہ،چیچہ وطنی، میاں چنوں، وہاڑی، شورکوٹ اور راجن پور میں تاجر برابری مکمل طور پر متحد ہوکر ہڑتال کررہی ہے جب کہ میانوالی، تونسہ شریف، نور پور تھل اور خانقاہ ڈوگراں میں تاجروں نے ہڑتال سے انکار کردیا ہے۔

سندھ

ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کراچی میں بھی ہڑتال کی جارہی ہے۔ آل کراچی تاجراتحاد، انجمن تاجران میرٹ روڈ، کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن، آل سندھ صراف ایسوسی ایشن اور طارق روڈ بہادرآباد ٹریڈرز الائنس سمیت 450 سے زائد مارکیٹوں کی نمائندہ تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے، جس کی وجہ سے شہر میں 80 فیصد سے زائد مارکیٹس، بازار اور کاروباری مراکز بند ہیں۔ صرف کراچی میں آج کی ہڑتال سے معیشت کو 5 سے 7 ارب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔

دوسری جانب تاجر ایکشن کمیٹی نے ہڑتال سے لاتعلقی کااعلان کردیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہمارے 11 میں سے 10 مطالبات تسلیم کرلیے ہیں، 50 ہزارسے زائد مالیت کی خریداری پرشناختی کارڈ کی شرط صرف رجسٹرڈ تاجروں کے لیے ہے غیررجسٹرڈ کے لیے نہیں ہے۔

شہر قائد کے علاوہ حیدرآباد، سکھر، میرپور خاص، ٹنڈوالہیار، ٹھٹھہ، پڈعیدن، جیکب آباد، نواب شاہ، نوشہرو فیروز، شہدادپور اور ٹنڈوآدم سمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں اور قصبات میں بھی ہڑتال کی جارہی ہے۔

خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا حکومت اور وفاق کی جانب سے لگائے گئے ٹیکسوں اور پابندیوں کے خلاف دارالحکومت پشاورکے علاوہ صوابی، مردان، نوشہرہ، سوات، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، خیبر، بنوں اور لوئردیر میں تمام تجارتی مراکز اور کاروباری مراکز بند ہیں۔

پشاورمیں مرکزی تنظیم تاجران خیبر پختونخوا کی کال پر مکمل شٹرڈاؤن ہے۔ شہرکے 124 چھوٹے بڑے بازار مکمل بند ہیں۔ ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے تاجر رہنماؤں نے مختلف بازاروں کے دورے کئے جب کہ دوسری جانب ہڑتال کو ناکام بنانے کیلئے حکومتی حمایت یافتہ تاجر تنظیم دکانیں کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بلوچستان

کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے تاجر بھی حکومت کی ٹیکس پالیسیوں کے خلاف کئے جانے والے احتجاج میں شامل ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کی اہم کاروباری مراکز منی مارکیٹ، نواں کلی،سریاب روڈ،جوائنٹ روڈ اور باچا خان چوک میں مکل ہڑتال ہے، اس کے علاوہ حب، چمن، گوادر، کچلاک، سبی، قلات، زیارت اور قلعہ عبداللہ سمیت دیگر قصبات میں بھی کاروبار مکمل طور پر بند ہے۔

گلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں تاجروں نے حکومتی اقدامات پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے اور ملک کے دیگر علاقوں کی طرح ٹیکسز اور مہنگائی کے خلاف بھر پور ہڑتال کررکھی ہے۔

Comments are closed.