مسئلہ کشمیر اور تارکین وطن کا روایتی طرز عمل

تحریر: وسیم رزاق، بارسلونا

قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہر پاکستانی خواہ وہ بچہ ہے یا بڑا اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا۔ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیریوں کو آزادی نہ ملنا مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے ہماری کوششوں پرسوالیہ نشان ہے۔ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے حکومتوں کی کوششیں اپنی جگہ لیکن عام پاکستانیوں بالخصوص تارکین وطن شاید اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں حقیقی معنوں میں ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔
13 جولائی 1937 کے شہداء کی یاد میں اسپین کے شہربارسلونا میں ایک ریلی اور دستخطی مہم کا انعقاد کیا گیا، ریلی کا اہتمام ندائے کشمیر نامی ایک تنظیم کی جانب سے کیا گیا جنہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر کو بھی مدعو کیا۔ پاکستانی قونصلر جنرل عمران علی چوہدری کی ذاتی کوششوں کی بدولت ریلی میں بڑی تعداد میں پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن نے شرکت کی۔ لیکن اس بار بھی یہ ریلی خودنمائی اور فوٹو سیشن کی حد تک رہی اور مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی یہ کوشش رائیگاں نظر آئی۔
کسی مقامی اخبار، ٹی وی چینل نے اس ایونٹ کے بارے میں کوئی خبرشائع یا نشر نہیں کی، ہسپانوی عوام بھی اس ریلی اور نعروں کو محض شور شرابہ سمجھ کر نظرانداز کر گئے۔ اس کوشش کی ناکامی کی وجہ نامناسب حکمت عملی اور دھڑے بندی کو قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کیونکہ وزیراعظم آزاد کشمیر سمیت تمام مقررین اردو میں تقریریں کر کے چلتے بنے، کسی نے ہسپانوی حکام یا عوام تک کشمیریوں کی آواز پہنچانے کے لیے مترجم یا انگریزی، ہسپانوی زبان میں خبر بھیجنے کی زحمت نہیں کی۔
فوٹو سیشن کرانے کے بعد تمام رہنما اور وزیراعظم آزاد کشمیر چلتے بنے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ تنازعہ کشمیر اور معصوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے اسپین کی عوام خاص کر نوجوان طبقے کوان کی زبان میں سمجھایا جاتا۔ لیکن منتظمین نے اس اہم نقطے کو ماضی کی طرح اس بار بھی نظر انداز کر دیا۔ جس کی وجہ سے اسپین کے ذرائع ابلاغ میں اس ریلی کو جگہ نہ مل سکی۔
چھ ماہ کے دوران وزیراعظم آزاد کشمیر نے دوسری بار اسپین کا دورہ کیا لیکن اپنے ان دوروں میں انہوں نے کسی اعلیٰ حکومتی شخصیت سے ملاقات کر کے مسئلہ کشمیر پر بات نہیں کی۔ اعتراض راجا فاروق حیدر کے دورے پر نہیں بلکہ ان کی جانب سے اپنائے گئے رویے پر ہے، اگر وہ اپنی تمام تر مصروفیات سے وقت نکال کر اسپین آئے تو صرف چند منٹ کی تقریر کرنے کے علاوہ انہیں حکومتی عہدیداروں اور پالیسی سازوں سے ملاقات کر کے مسئلہ کشمیر پر اپنا موقف بیان کرنا چاہیے تھا۔ لیکن انہوں نے صرف تقریر اور بیان بازی پر اکتفا کیا۔
مزید یہ کہ بیرون ممالک میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کی دھڑے بندی اور گروپنگ بھی مسئلہ کشمیر کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، مسئلہ کشمیر سمیت دیگر اہم قومی معاملات پر تارکین وطن کی تمام تنظیموں کو متحد ہونا چاہیے تا کہ بھارت کے پروپیگنڈے ، کشمیر اور پاکستان کے خلاف لابنگ کا مقابلہ کیا جا سکے۔
کشمیر کے حوالے سے بھارتی لابنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے کشمیری رہنماؤں کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، انہیں محض فوٹو سیشنز اور خودنمائی ترک کر کے اسپین سمیت دیگر یورپی ممالک کی نوجوان نسل کے سامنے بھارتی مظالم اور بربریت کو بے نقاب کرنا ہوگا۔
سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت پاکستانی یورپی ممالک کی نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر سے آگاہ کرنا چاہیے، بیرون ممالک میں مختلف یونیورسٹیز کے طلبہ کو مقبوضہ وادی میں ڈھائے جانے والے مظالم، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے آگاہ کر کے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔
کئی دہائیوں سے جاری قابض بھارتی فوج کے جبرو استبداد اور قتل عام کا خاتمہ کے لیے بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے اس مسئلہ کو متفقہ طور پر اجاگر کرنا ہوگا۔

وسیم رزاق پاکستان میں براڈ کاسٹ جرنلزم کا تجربہ رکھتے ہیں، وہ پاکستان کے صف اول کے ٹی وی چینلز کے ساتھ منسلک رہے، اب وسیم رزاق نیوز ڈپلومیسی ویب سائٹ، این ڈی ٹی وی اور میگزین کے اسپین میں اسٹیشن ہیڈ کے طو پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تحریر کے بارے میں اپنی آراء مندرجہ ذیل ای میل یا واٹس ایپ پر دے سکتے ہیں۔

E-Mail: wsmrzzq@gmail.com  ~  Whatsapp No:0034635306506

Comments are closed.