بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے عالمی عدالت انصاف میں کیس تک ۔۔۔ کب کیا ہوا؟

اسلام آباد: پاکستان میں دہشت گردی کرانے اور ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی قسمت کا فیصلہ عالمی عدالت انصاف 17 جولائی کو سنائے گی۔ کمانڈر یادیو پاکستانی فیلڈ کورٹ مارشل ٹرائل میں اپنے جرائم کا اعتراف کر چکا ہے۔ تاہم بھارت کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کو معصوم شہری قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روک کر اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

پاکستانی وکلا کی جانب سے بھارتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی راء کی دہشتگردانہ سرگرمیوں، کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیانات اور دو ناموں سے بھارتی پاسپورٹ سے متعلق دلائل دیے۔ عدالت نے21 فروری 2019 کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا جو 17 جولائی 2019 کو سنایا جائے گا۔

مقدمے کا پس منظر

Activity - Insert animated GIF to HTML

03 مارچ 2017 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے بلوچستان سے بھارتی جاسوس اور انڈین نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا۔ جس کے بعد اس نے پاکستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث ہونے، تخریب کاروں کی فنڈنگ سمیت اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔ پاک فوج کے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے کلبھوشن یادیو کا ٹرائل ہوا اور10 اپریل 2017 کو جرم ثابت ہونے پر بھارتی جاسوس کو سزائےموت سنائی گئی۔

بھارت نے 8 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی، جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کو گرفتار اور سزا سنا کر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی لہٰذا سزا پر عملدرآمد فوری طور پرروک کر کلبھوشن یادیو کو رہا کیا جائے۔

9 مئی 2017 کو صدر عالمی عدالت انصاف نے پاکستان اور بھارت کو نوٹسز جاری کر کے 15 مئی کے لیے ابتدائی سماعت مقرر کرنے سے متعلق باقاعدہ آگاہ کیا گیا۔ 15 مئی کو عالمی عدالت انصاف میں پہلی سماعت ہوئی، جس میں بھارتی وکلاء نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا رکوانے کے لیے ابتدائی دلائل دیئے جب کہ پاکستان کی جانب بھارتی درخواست کی مخالفت کی گئی۔

18 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف نے متفقہ طور پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے بھارتی درخواست کے حتمی فیصلے تک پاکستان کو کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے سے روک دیا۔

13 جون کو عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 13 ستمبر 2017 تک بھارت اپنے تحریری گزارشات جمع کرائے جب کہ پاکستان کو 13 دسمبر 2017 تک اپنی گزارشات جمع کرانے کا وقت دیا گیا۔

تحریری گزارشات کا جائزہ لینے کے بعد عالمی عدالت انصاف نے 17 جنوری 2018 کو  فریقین کو تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت دی، جس کے لیے بھارت کو 17 اپریل 2018 تک جب کہ پاکستان کو 17 جولائی 2018 تک کا وقت دیا گیا۔

کلبھوشن یادیو کیس کے میرٹ پر باقاعدہ سماعت 18 فروری سے 21 فروری 2019 تک ہوئی، 18 فروری2019  کو ہریش سالوے کی سربراہی میں بھارتی وکلاء نے دلائل دیئے، جس میں انہوں نے ہزاروں پاکستانیوں کے قتل میں ملوث جاسوس کلبھوشن یادیو کو معصوم قرار دیتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے موقف اپنایا کہ کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی نہیں دی گئی، سزا سنائے جانے کے بعد کمانڈر یادیو کی والدہ اور اہلیہ سے 25 دسمبر 2017 کو ملاقات کرائی گئی۔

19 فروری2019  کو پاکستانی وکیل خاور قریشی نے بھارتی دلائل کے جواب میں دلائل پیش کیے اور بھارتی موقف کو یکسر مسترد کر دیا، پاکستانی وکیل نے موقف اپنایا کہ کلبھوشن یادیو کی بریت، رہائی اور بھارت حوالگی کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ بھارت ایک ایسے شخص کی بریت، رہائی اور حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے جس کی شہریت کی تصدیق نہیں کی گئی کیونکہ وہ ایک جاسوس اور دہشت گرد ہے۔خاور قریشی نے عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی درخواست کو مسترد کیا جائے۔

20 فروری2019 کو بھارتی وکیل نےپاکستانی دلائل کے جواب میں دلائل پیش کیے جس میں وہ بار بار ویانا کنونشن کا حوالہ دیتا رہے، تاہم انہوں نے کلبھوشن یادیو کی شہریت، دو ناموں سے پاسپورٹ رکھنے کے حوالے اٹھائے گئے پاکستانی سوالات کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام پر بے جا سوالات اٹھائے۔

21 فروری2019  کو پاکستان نے جوابی دلائل پیش کیے جس میں پاکستانی وکیل خاور قریشی اور اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے مدلل انداز میں بھارتی نکات کا شق وار جواب دیا، عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد 21 فروری کو ہی فیصلہ محفوظ کیا۔ جو 17 جولائی کو سنایا جائے گا۔

Comments are closed.