ادویات و دیگرمصنوعات کے جعلی یا اصلی ہونے کا پتہ لگانے کا جدید طریقہ

کراچی: پاکستان میں جعلی مصنوعات کی بھرمار سنگین مسئلہ اختیار کرچکی ہے، نیشنل انکوبیشن سینٹر کے ذہین طلبا نے اس  مسئلے سے نمٹنے کے لیے موثر حل ڈھونڈھ لیا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیاتی سافٹ ویئر کے ذریعے ادویات، کتابوں و دیگر کنزیومر پروڈکٹس کے اصلی یا جعلی ہونے کا پتہ لگانا ممکن ہو گیا ہے۔

جعلی مصنوعات ایک جانب صارفین کے لیے خسارے کا سودا ہیں تو دوسری جانب معیاری مصنوعات بنانے والی صنعتوں اور سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ جعلی مصنوعات پر حکومت کو بھی کوئی ٹیکس حاصل نہیں ہوتا۔

پاکستان کے بازار کاسمیٹکس سے لے کر کھانے پینے کی اشیا، شیمپو ، صابن ، جوتوں سے لے کر گھڑیوں سمیت ہزاروں جعلی مصنوعات سے بھرے پڑے ہیں لیکن جعلی ادویات کی بھی بھرمار سب سے زیادہ خطرناک امر ہے۔ جعلی ادویات انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ نیشنل انکوبیشن سینٹر کراچی میں اس اہم مسئلے کا موثر حل  تلاش کرلیا گیا ہے۔

باصلاحیت نوجوانوں نے مصنوعی ذہانت  پر مبنی تجزیاتی سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو ایک موبائل ایپلی کیشن اور ڈیٹا بیس سے منسلک ہے اس منفرد ایپلی کیشن کو سی کیور کا نام دیا گیا ہے جس کا بنیادی تصور کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس سی کرنے والی ذہین طالبہ سندس فاطمہ نے پیش کیا۔

ایک سال کی محنت سے اسٹارٹ اپ کی شکل میں سی کیور کے نام سے ایک ایپلی کیشن تیار کی گئی ہے جس کے ذریعے نہ صرف کنزیومر پروڈکٹس بلکہ کتابوں اور اہم دستاویزات کو بھی نقل سے بچایا جاسکتا ہے جن میں تعلیمی اسناد، حکومت کے جاری کردہ لائسنس، پرائز بانڈز حتیٰ کہ کرنسی نوٹ بھی شامل ہیں۔

Comments are closed.