عید پر بھی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، مظلوم کشمیری نمازعید اورقربانی سے محروم

سری نگر: غاصب بھارت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی وادی بھر میں لاک ڈاؤن جاری رکھا، عید کے روز بھی کرفیو نافذ کی وجہ سے شہریوں کی اکثریت نہ تو نماز عید ادا کرسکی اور نہ ہی سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں قربانی ادا کرنے کا موقع دیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے تاحال وادی بھر میں کرفیو فافذ ہے، ظالم مودی انتظامیہ نے عید کے بڑے اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہ دیکر نماز عید کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالی جب کہ سنت ابراہیمی کی پیروی میں جانور کی قربانی بھی مشکل بنادی گئی۔

پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے، کرفیو آٹھویں روز بھی جاری رہا، انٹرنیٹ اور فون سروس بند ہونے کے باعث بینک بند رہے جس کی وجہ سے اے ٹی ایمز میں بھی پیسے نہیں رکھے گئے، ان حالات میں مویشیوں کی خریداری ناممکن تھی اس لیے قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت بھی نہ ہونے کے برابر رہی تھی۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے سیاہ عمل کے بعد سے مودی سرکار خوف اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے، کسی ممکنہ احتجاج اور مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کرلیے ہیں۔ ان تمام نفرت آمیز اقدامات سے مودی سرکار کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔

Comments are closed.