طالبان اور امریکا کے درمیان افغانستان سے فوجی انخلاء پر مذاکرات کا دور مکمل

دوحا/ کابل: افغانستان میں قیام امن اور امریکی فوج کے انخلاء سے متعلق طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا حالیہ دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ فریقین طے شدہ معاملات پر آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے اپنی قیادت سے مشاورت کریں گے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قطر میں ہونے والے مذاکرات کا آٹھواں دور طویل ضرور تھا تاہم یہ مفید رہا۔ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج سے متعلق ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے طالبان کے ایک اور ترجمان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے کے بعد کسی معاہدے کی توقع ہے کیونکہ دونوں فریقن امریکا کے سب سے بڑے تنازع تقریباً 18 سالہ جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

اگر یہ معاہدہ ہوجاتا ہے تو متوقع طور پر اس میں طالبان کی یہ ضمانت شامل ہوگی کہ افغانستان مستقبل میں کسی دوسرے عسکریت پسند گرہوں کے لیے پناہ گاہ نہیں ہوگا، تاہم دونوں داعش اور القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند ابھی بھی اس ملک میں متحرک ہیں۔

دوسری جانب طالبان کی جانب سے افغانستان میں تقریباً روانہ کی بنیاد پر جاری حملوں میں زیادہ ترافغان فورسز اور حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنایا جاتا لیکن اس میں کئی شہری بھی ہلاک ہوتے ہیں۔

اس معاہدے میں جنگ بندی اور اس شرط کو بھی شامل کیا جاسکتا کہ طالبان افغان نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کریں گے، اگرچہ عسکریت پسند گروپ اب تک کابل کے نمائندوں سے بات چیت سے انکاری رہا ہے کیونکہ ان کے بقول افغان حکومت امریکا کی کٹھ پتلی ہے۔

تاہم اس تمام صورتحال امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن گزشتہ روز ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ ‘امید ہے کہ یہ جنگ زدہ افغانستان کی آخری عید ہے’۔

واضح رہے کہ افغانستان میں اتوار 11 اگست کو عیدالاضحیٰ کا پہلا روز تھا اور یہ دن ملک سے کوئی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع بغیر گزر گیا تھا۔

زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ ‘مختلف اسکالرز سمجھتے ہیں کہ عیدالاضحیٰ کا معنیٰ اپنی انا کو قربان کرنا ہے، لہٰذا افغانستان میں جنگ کے دونوں فریقین کے رہنما اس کو دل سے اپنائیں کیونکہ ہم امن کے لیے کوشاں ہیں’۔

ادھر افغانستان میں موجود کچھ حلقے اسے افغان صدر اشرف غنی کو دیے جواب کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔افغان صدر نے کہا تھا کہ ‘ہمارے مستقبل کا فیصلہ باہر سے نہیں ہوسکتا، چاہے پھر وہ ہمارے دوستوں یا ہمسایہ ممالک کے مرکزی شہروں میں ہو، افغانساتن کی تقدیر کا فیصلہ اسی ملک میں کیا جائے گا، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی ہمارے معاملات میں مداخلت کرے’۔

Comments are closed.