بھارت پلوامہ واقعے جیسا بہانہ بناکر پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر لا کر پاکستان نے بڑا معرکہ سر کیا ہے، جس پر بھارت چونک گیا ہے، یہ لمبی لڑائی ہے جو ہم نے ہر فورم پر لڑنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت پلوامہ واقعے جیسا بہانہ بناکر پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر قائم کردہ خصوصی کمیٹی کا اجلاس وزارت خارجہ اسلام آباد میں ہوا۔ جس کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور اور فردوس عاشق اعوان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بہت حوصلہ افزا ہے، پاکستان نے بہت بڑا معرکہ سر کیاہے، بھارت چونک گیا کہ اس کے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے، یہ لمبی لڑائی ہے جو ہم نے ہر فورم پر لڑنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، مودی سرکار نے نہرو کے ہندوستان کو دفن کر دیا ہے، نہرو اور مودی کے ہندوستان میں زمین آسمان کا فقرہ ہے، مودی سرکار دوال ڈاکٹرائن کے گرد گھوم رہی ہے، نریندر مودی، امیت شاہ اور اجیت دول اس کے کردار ہیں۔ بھارت پلوامہ واقعے جیسا بہانہ بناکر ایل او سی کے باہر پاکستان پر کوئی ایکشن کرسکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیرکمیٹی میں حکومت و اپوزیشن سمیت پاکستان کے تمام اداروں کی نمائندگی ہے، سب نے اس میں اپنے مشورے دیے ہیں، اس سے یکجہتی کا پیغام گیا ہے، اپنی جدوجہد کو تقویت دینے کیلئے کشمیر سیل تشکیل دے رہے ہیں، دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں اپنے سفارتخانوں میں کشمیرڈیسک قائم کریں گے، قوم کو ملک کے اندر اور باہر موجود میرجعفراورمیرصادق پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ کل سرینگر میں کشمیری عوام نمازجمعہ کیلئے باہر نکلے اور کرفیو کے باوجود بھارتی اقدامات کو مسترد کیا، یہ ان جذبات کی جھلک ہے جو کرفیو ہٹنے پر سامنے آئیں گے، دنیا کو اس معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہیے، اگر خاموشی رہے گی تو یہ مجرمانہ عمل ہوگا۔

بھارت کے ایٹمی حملے میں پہل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرخارجہ نے کہا کہ جب دماغ میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور کوئی سٹھیا جاتا ہے تو وہ بھارتی وزیردفاع راج ناتھ جیسے بیانات دیتا ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا تعلق ہماری سکیورٹی کے ساتھ بھی ہے، وادی میں ہر گھر کے باہر بھارتی فوجی ہے، توقع ہے کرفیو ہٹتے ہی مقبوضہ کشمیر میں تشدد بڑھے گا، مسلح افواج ہرخطرے کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں اور سرحد پر کچھ ہوا تو پاک فوج بھرپور جواب دے گی، انہوں نے ایل او سی سے دراندازی کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں دراندازی ہوتی ہے تو یہ بھارتی فوج کی ناکامی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کشمیر نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے، دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت کس طرف جارہا ہے اور کشمیر میں مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.