فلاحی ریاست کی طرف ایک اور قدم، خصوصی افراد کیلئے صحت پروگرام متعارف

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کمزور طبقے کی مدد کرنا تحریک انصاف حکومت کا وژن ہے، اور اسی وژن کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں خصوصی افراد کے لیے صحت سہولت پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوموں کے بھی نظریے ہوتے ہیں، پاکستان کا بننا ایک عظیم خواب تھا۔ لیکن ہم اس خواب اور وژن سے بہت دور چلے گئے ہیں، لیکن ہمیں واپس اسی وژن پرآنا ہے، انہوں نے کا کہ نوجوانوں کے لیے بار بار یہ دہراتا ہوں کہ یہ عظیم خواب کیا تھا، پاکستان بننے کا کیا مقصد تھا۔ ہم نے ملک کو فلاحی ریاست بنانا تھا جو مدینہ کی ریاست پر عمل پیرا ہونے سے ہی بن سکتا تھا۔

عمران خان نے کہاکہ ریاست مدینہ میں لوگ غریب تھے، جنگ کے دوران 313 صحابہؓ کے پاس ہتھیار نہیں تھے، نبی پاکؐ دنیا کے بہترین انسان تھے، لوگوں کو سٹیو جابز اور بل گیٹس کو نہیں نبی پاکؐ کی زندگی کو پڑھنا چاہیے۔ سب کو کہنا چاہتا ہوں حضور پاکؐ کی سیرت طیبہ سے سیکھیں، ہم سے پہلے لوگوں نے عمل کر کے دکھایا اور ہزار سال تک مسلمانوں کے پاس حکمرانی رہی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسانیت کا نظام لانا چاہتے ہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے غریب لوگوں کو بھی برابری کے حقوق دیں، ہم کوشش کریں گے غریبوں اور کمزور طبقے کو اوپر لانا اور انکی مدد کریں، یہ احساس پروگرام کے ذریعے مدد کرتے رہیں گے۔ احساس پروگرام کے لیے ہم نے کوئی جلدی نہیں کی۔ ڈاکٹر ظفر مرزا اور ثانیہ نشتر نے بہت اچھا کام کیا ہے، ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غریبوں کا ڈیٹا بیس اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، سب ادارے مل کر کام کرینگے، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو بیت المال سے پیسے مل رہے ہیں حالانکہ اس کو اس کی ضرورت نہیں، ہم سب پر نظر رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس سب سے اہم چیز ہے۔ 25 سے 40 فیصد کے قریب لوگ بہت غریب ہیں، ہم ان کے لیے ہیلتھ انشورنس لائے ہیں، ان سب کی مدد کریں گے، غریبوں کو سہولتیں فراہم کرنا ترجیح ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس کارڈ کے ذریعے سات لاکھ بیس ہزار روپے سے غریب علاج کرا سکیں گے، وہ پرائیویٹ ہسپتال میں بھی اپنا علاج کرا سکیں گے۔ غریبوں کے لیے ہر ہفتے میٹنگ ہوتی ہے، وزراء اپنی رپورٹس مجھے دیں گے اور بتائیں گے کہ کیا ایک ایسا کام ہے جس سے غریبوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

Comments are closed.