جعلی اکاونٹس کیس: سندھ بنک کے سابق سربراہ ندیم الطاف وعدہ معاف گواہ

اسلام آباد: جعلی اکاونٹ کیس میں سندھ بنک کے سابق سربراہ ندیم الطاف کو وعدہ معاف گواہ بنے پر جیل سے رہا کر دیا گیا۔ انہوں نے جعلی کمپنیوں کو قرض دینے پر اعتراف جر م کرتے ہوئے کہاکہ مجھ پر دباو ڈال کر قرض منظور کروائے گئے ،ایک ہزار ملین روپے حسین لوائی کی بے نامی کمپنی رابیکون کو دلوائے گئے۔

نیب نے گرفتار ملزم ندیم الطاف کو احتساب عدالت میں پیش کرکے بتایا کہ ندیم الطاف وعدہ معاف گواہ بن گیا اور چیئرمین نیب نے اس کی منظوری دے دی ہے ۔مجسٹریٹ کے روبرو اعترافی بیان میں ندیم الطاف نے بتایا کہ 2016 کو بلال شیخ کے ہمراہ آصف علی زرداری کے فرنٹ مین حسین لوائی سے ملاقات کی جس میں حسین لوائی اور سمٹ بنک کو فائدہ پہنچانے کا طریقہ طے پایا۔

بیان کے مطابق منصوبہ بندی کے تحت حسین لوائی کی فرنٹ کمپنیوں کو سندھ بنک سے غیر قانونی قرض فراہم کیا،کمپنیاں قرض کے نام پر رقم سندھ بنک سے لیکر حسین لوائی کے نجی بنک میں جمع کرواتی تھیں، ندیم الطاف نے کہاکہ مجھ پر دباو ڈال کر قرض منظور کروائے گئے اورایک ہزار ملین روپے حسین لوائی کی بے نامی کمپنی رابیکون کو دلوائے گئے۔

احتساب عدالت نے ندیم الطاف کو وعدہ معاف گواہ بننے پر رہا کردیا جبکہ سابق چیئرپرسن سندھ اینگرو کول مائننگ پاور کمپنی خورشید انور جمالی کی پلی بارگین کی درخواست مسترد ہونے پر 20 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔۔

Comments are closed.