کشمیر میں ہزاروں گمنام قبریں دریافت، اقوام متحدہ کا صورتحال پراظہار تشویش

نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم اور کرفیو پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کا مشورہ دیا ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ افراد قیدی کی طرح زندگی گزار رہے ہیں، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت مذاکرات کریں۔

بانڈی پورہ، بارہ مولہ، کپواڑہ میں 2700 گمنام قبریں دریافت

ادھرانٹرنیشنل ہیومن رائٹس کورٹ اور کشمیر میں عدالت انصاف نامی این جی او کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں بانڈی پورہ، بارہ مولہ اور کپواڑہ کے 55 دیہات میں کی جانے والے کھدائی کے دوران 2 ہزار 700 قبریں دریافت ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے، جن میں 3 ہزار کے قریب افراد کو دفن کیا گیا ہے۔ آئی پی ٹی کے بانی آنگنا چیترجی نے کہا کہ شناخت شدہ 2 ہزار 700 قبروں میں سے 2 ہزار 373 گمنام، 154 قبروں میں 2 لاشیں، 23 قبروں میں 3 سے 17 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان کی ذیلی کمیٹی برائے میں کشمیرکی صورتحال پر غور ہوگا

دوسری جانب امریکا کے ایوان نمائندگان کی ایشیا پرذیلی کمیٹی کی سربراہ بریڈ شرمن نے اعلان کیا ہے کہ 22 اکتوبر کو جنوبی ایشیا کے بارے میں سماعت کی جائے گی جس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں سمیت دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں سے تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔

اجلاس میں ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق خارجہ امور کی قائم مقام نائب سیکرٹری ایلس ویلز، امریکا کے بین الاقوامی آزادی مذہب کے سفیر سام براؤن بیک اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

کانگریس کی اس کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عام شہریوں کی گرفتاریوں سمیت وہاں عائد پابندیوں کے باعث لوگوں کو درپیش مسائل، اشیائے خورو نوش کی قلت، طبی سہولیات کی کمی اور مواصلاتی نظام کی بندش پر بھی غور کیا جائے گا۔

Comments are closed.