سال کے آخر تک سلیکٹڈ حکمرانوں کو گھر جانا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

 راولپنڈی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ اپنے اعلان پر قائم ہیں، حکومت نے انتقامی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے اسی طرح مخالفین کو جیلوں میں رکھا تو مولانا فضل الرحمان کی طرح انتہائی اقدام پر مجبور ہوں گے۔

اپنے والد آصف زرداری سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے بات چیت میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دھرنے کی سیاست سے حکومت کو گھر بھیجنے سے سسٹم کو نقصان پہنچتا ہے لیکن اگر جمہوری اور انسانی حقوق پرحملے جاری رہے تو پھر دھرنے کے لیے مجبور ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ :

’’اگرمخالفین کو جیلوں میں رکھا جائے گا تو پھر ہم بھی مولانا فضل الرحمان کی طرح ایکسٹریم پوزیشن لیں گے۔ تحریک انصاف پارلیمان کو عزت دے رہی ہے اور نہ ہی جمہوری نظام کو، اپنی بات پر قائم ہیں، سال کے آخر تک عمران خان کو گھر جانا ہوگا‘‘۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اقتدار بچانے کے لیے غداری کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ جس جماعت کو فنڈنگ بھارت سے ہو، وہ کس منہ سے دوسروں کو ’’را‘‘ کا ایجنٹ کا الزام لگاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری بیمار ضرور، مگر ان کا حوصلہ بلند ہے، وہ پہلے بھاگے نہ اب کہیں بھاگیں گے۔ پہلے بھی ظلم برداشت کیا، اب بھی کرینگے لیکن کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آزادی مارچ، پیپلز پارٹی کا مشاورتی اجلاس بلایا ہے۔ ہم ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں، ہمارا آج بھی وہی موقف ہے۔ جمہوریت کا پرچم اٹھا کرآگے بڑھ رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کا جیل میں علاج نہیں کروایا جا رہا۔ بھارتی پائلٹ کو بھی طبی سہولیات دی گئیں لیکن سابق صدر کو آج تک طبی سہولیات نہیں دی جا رہی۔ کیا یہ ہے نیا پاکستان اور مدینہ کی ریاست؟ عدالتوں کے اندر اپنا کیس لڑتے رہیں گے۔

Comments are closed.