احتجاجی تحریک سے خائف نہیں، آزادی مارچ کیلئے غلط تاریخ کا انتخاب کیا گیا، شاہ محمود قریشی

ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ احتجاجی تحریک مولانا کی سیاسی ضرورت ہے، آزادی مارچ سے خائف نہیں۔ پاکستانی عوام بھی مولانا فضل الرحمان کے 27 اکتوبر کے فیصلے کوپسند نہیں کر رہے،  کیونکہ کشمیری اس دن ہر سال یوم سیاہ مناتے ہیں۔

ملتان میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت مخالف تحریک مولانا کی سیاسی ضرورت ہے۔ حکومت اس سے خائف نہیں لیکن 27 اکتوبر کی تاریخ رکھنا غلط ہے۔ اس دن پوری دنیا میں بسنے والے کشمیری بھارت کے غاصبانہ تسلط کیخلاف یوم سیاہ مناتے ہیں۔ مولانا نے کہہ دیا ہے کہ وہ تاریخ پر نظر ثانی نہیں کریں گے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام دو ماہ سے زیادہ عرصے سے مسلسل محصور ہیں۔ بھارتی عدلیہ اور میڈیا اس وقت حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے شدید دباؤ میں ہے۔ مودی سرکار نے امریکی سینیٹر کو بھی مقبوضہ وادی جانے کی اجازت نہیں دی۔ امریکی سینیٹرز نے صدر ٹرمپ کی اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کے لیے پوری کوششں کیں لیکن پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے سامنے اپنا موثر نقطہ نظر پیش کیا۔ پاکستان خاصی حد تک ایشیا پیسیفک گروپ کو مطمئن کر چکا ہے۔ امید ہے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے پیرس اجلاس میں پاکستانی نقطہ نظر کو اہمیت دی جائے گی۔

 انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم آج رات چین کے تین روزہ دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں ان کی چین کے صدر، وزیراعظم اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں ہوں گی۔ اپنے دورے کے دوران عمران خان چین کی سرمایہ کار کمپنیوں سے بھی ملاقات کریںگے۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ چین مطمئن ہے، اپوزیشن بلاوجہ سی پیک کو ایشو بناتی ہے۔

Comments are closed.