پاکستان کا بھارت کو دہشت گردکیمپ تباہی کا دعویٰ دنیا کے سامنے موقع پرثابت کرنے کا چیلنج

اسلام آباد: پاکستان دنیا بھرکے سفیروں کو 22 اکتوبر کو لائن آف کنٹرول کا دورہ کرائے گا، ڈی جی ساؤتھ ایشیا و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ناظم الامور کو غیرملکی سفراء کے ہمراہ ایل او سی کے دورے اور پاکستانی سرزمین پر دہشت گرد کیمپوں سے متعلق بھارت کے الزامات دنیا کے سامنے ثابت کرنے کا چیلنج دے دیا۔

ڈی جی ساؤتھ ایشیا و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ناظم الامور گورو آہلو والیا کو دفتر خارجہ طللب کیا اور پاکستان میں دہشتگرد کیمپوں کی موجودگی سے متعلق بھارت کے بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور بنیاد الزامات کے ثبوت مانگے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے واضح کیا گیا کہ بھارت بے بنیاد الزامات اور سرحد پر شرپسندی سے باز نہ آیا تو اسے بڑی قیمت ادا کرنا ہوگی، اس کے بعد بھارت کے لئے صورتحال ناقابل برداشت ہوجائے گی۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی سفارت کار کو دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو لڑنا جانتے ہیں اس کے لئے پاکستان کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے جھوٹے اور من گھڑت الزامات کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لئے پاکستان نے اسلام آباد میں موجود دنیا بھر کے سفیروں کو لائن آف کنٹرول لے جانا کا فیصلہ کیا ہے، غیر ملکی سفیروں کو 22 اکتوبر کو جوڑا، شاہکوٹ، نوسیری سیکٹرز کا دورہ کرایا جائے گا۔

پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو بھی غیر ملکی سفراء کے ہمراہ لائن آف کنٹرول پر آنے کی پیش کش کی اور چیلنج کیا پاکستانی سرزمین پر دہشت گرد کیمپ تباہ کرنے سے متعلق بھارتی الزامات اور دعوؤں کو ایل او سی پر دنیا کے سامنے ثابت کریں۔اور غیرملکی سفیروں کے دورے کے دوران دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی کرے۔

تاہم رات گئے تک بھارتی ہائی کمیشن ک جانب سے غیرملکی سفیروں کے ہمراہ لائن آف کنٹرول کے دورے سے متعلق پیشکش کا جواب نہیں دیا گیا۔

Comments are closed.