تعلیمی اداروں میں طلبہ واساتذہ سے مذہب بنیاد پرامتیازی سلوک کا انکشاف

اسلام آباد: تعلیم اور عدم مساوا ت کے حوالے سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں مذہب، عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک پایا جاتا ہے۔جس کے خاتمے کے لئے قانون سازی میں موثر بنیادی تبدیلی اور اصلاحات ضروری ہیں۔ رپورٹ میں اساتذہ کی تربیت اور مجموعی طور پر معاشرتی طرز عمل میں تبدیلی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) اور انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ ریسرچ اینڈ کیپیبیلیٹیز (اِدراک) نے مشترکہ طور پر رپورٹ مرتب کی جسے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام جاری کیا گیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تقریباً 60 فیصد غیر مسلم طلباء کو سکول وکالجز میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب کہ 70 فیصد غیرمسلم اساتذہ کے ساتھ ان ے عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح 72 فیصد والدین نے بتایا کہ انکے بچوں کے ساتھ مذہبی شناخت کے سبب اسکولوں و کالجوں میں امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

مذکورہ رپورٹ بہاولپور، ملتان، خانیوال، ننکانہ صاحب اور گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے 5 منتخب اضلاع میں کیے گئے سروے کے نتائج پر مشتمل ہے۔ جہاں حقائق جاننے کے لئے 200 غیرمسلم طلباء، 40 اساتذہ اور 40 والدین سے براہ راست امتیازی سلوک کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر ادراک اور اس رپورٹ کے مصنف امجد نذیرنے کہا کہ معاشرے میں انقلاب لانے، عدم مساوات اور مذہبی امتیاز کو ختم کے لئے ضروری ہے کہ تعلیم میں بنیادی اصلاحات کے فوری اقدامات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں مذہب اور عقیدے پر مبنی امتیازی سلوک اور عدم برداشت کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جسے روکنے کے لیے ایک خصوصی باڈی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو ان شکایات کا فوری ازالہ کرے اور مذہبی رواداری کو یقینی بنائے۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور انسانی حقوق کمیشن آف پاکستاان (ایچ آر سی پی) کی کونسل رکن نسرین اظہر کا کہنا تھا کہ معاشرے میں مذہبی رواداری میں کمی اور تعصب میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ معاشرے میں امتیازی سلوک ہر سطح پر پایا جاتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہر قسم کے امتیاز کو ختم کرنے اور رواداری اور مساوات کے اصول پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لئے سخت اقدامات کرے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرسچن اسٹڈی سینٹر(سی ایس سی) جینیفر جیون نے کہا کہ رپورٹ میں پیش کردہ نتائج اور مختلف کیس اسٹڈیز سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ ہے جو ملک میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم کی سطح پر اصلاحات کے موثر اقدامات کے ذریعے معاشرے کے اس منفی پہلو کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

معروف ترقی پسند مصنف، تاریخ دان اور شاعر احمد سلیم کا کہنا تھا کہ ہر شہری کے مساوی حقوق کو یقینی بنانے اور ہر طرح کے امتیازی سلوک کو ختم کرنے کے لئے ہ میں آئین میں بہت حد تک تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ا ٓئینی اصلاحات پر پارلیمنٹ میں کھل کر بحث ہونی چاہئے۔

ڈائریکٹر ایڈوکیسی اینڈ آؤٹ ریچ، ایس ڈی پی آئی معظم شریف بھٹی نے کہا کہ یہ رپورٹ ایک اچھی کاوش ہے جسے پالیسی سازوں کو باخبر فیصلہ کرنے میں معاونت ملے گی۔

Comments are closed.