کوشش ہے ریکوڈک کی سابقہ ٹھیکیدارکمپنی دوبارہ پاکستان میں کام کرے، وزیراعظم

حب: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی عدالتوں سے جرمانوں کی وجہ بھی بدعنوانی ہے،ریکوڈک کا ٹھیکہ لینے والی کمپنی سے مذاکرات چل رہے ہیں اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ وہی کمپنی دوبارہ آکر پاکستان میں کام کرے۔

بلوچستان کے علاقے حب میں 1320 میگاواٹ چائنا حب پاور پلانٹ کے افتتاح کے بعد اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں، یہ پاکستان چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا پہلا مشترک منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے ہمیں بہت فائدہ ہوگا۔ اس کیلئے اتھارٹی بنا دی ہے، اس منصوبے میں جہاں رکاوٹیں ہوں گی، انہیں دور کیا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری بیلٹ اینڈ روڈ کا فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ سی پیک سے مقامی افراد کو بھی جدید تربیت ملے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سی پیک میں ترقی کا موقع دیا ہے۔

انہوں ںنے کہا کہ آج ہمارے مقروض ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں گورننس سسٹم بہتر نہیں تھا۔ ہم نے پاکستان کے مستقبل کو صاف اور شفاف گورننس دینی ہے۔ مستقبل محفوظ بنانے کے لیے صاف شفاف گورننس ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور میں کرپشن کیسز کی وجہ سے باہر سے سرمایہ کاری نہیں آئی۔ ماضی میں چھوٹے سے ٹولے نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ ہماری حکومت دیانتدار ہے، اس لیے بیرونی سرمایہ کار پاکستان آنے کے خواہاں ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں ماضی میں جو جرمانہ ہوا، اس کے پیچھے بھی کرپشن تھی۔ تھوڑے سے لوگوں نے رشوت لینے کے لیے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ ریکوڈک کیس میں پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ دورہ امریکا پر تھے تو انہیں پیغام آیا کہ جس کمپنی کو ریکوڈک کا براہ راست ٹھیکہ دیا گیا ان کے چیئرمین مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں اور جب میری ان سے بات ہوئی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ‘دنیا میں سب سے زیادہ سونے کے ذخائر پاکستان کے پاس ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’مجھے اندازہ نہیں تھا، میں سمجھا وہاں تانبے کے ذخائر ہیں لیکن وہاں سونے کے ذخائر بھی ہیں جس کی کان کنی سب سے زیادہ آسان ہے اور پھر چیئرمین نے کہا کہ ہم دوبارہ واپس آنے کا اس لیے سوچ رہے ہیں کیونکہ آپ کی حکومت صاف ہے۔‘‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے مذاکرات چل رہے ہیں اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ریکوڈک میں وہی کمپنی دوبارہ آئے اور پاکستان میں کام کرے۔

Comments are closed.