سیاسی صورتحال سے اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی،100 انڈیکس 785 پوائنٹس گر گیا

کراچی/اسلام آباد:  ملک میں غیر یقینی سیاسی حالات اور حکومت مخالف ممکنہ احتجاجی تحریک کے اثرات ابھی سے پاکستان سٹاک مارکیٹ پر بھاری پڑنے لگے ہیں، حصص مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 785 پوائنٹس کی شدید مندی دیکھی گئی جبکہ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

سٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز بڑی مندی دیکھی گئی، بڑی مندی کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں 8 نفسیاتی حدیں گر گئیں، مارکیٹ کی 33800، 33700، 33600، 33500، 33400، 33300، 33200، 33100 کی حدیں گریں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری کے دوران پاکستان سٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس 33870.15 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا تھا۔

پورے کاروباری روز کاروبار میں 2.37 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی، 100 انڈیکس 785.42 پوائنٹس کی مندی کے بعد 33084.73 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔

معاشی ماہرین پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی کی بڑی وجہ ملکی سیاسی صورتحال کو قرار دے رہے ہیں، ماہرین کے مطابق جے یو آئی (ف) کی طرف سے اعلان کیے گئے کے بعد آزادی مارچ کے بعد کی صورتحال نے انویسٹرز کو دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر روکا ہوا ہے،

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تھا کہ اتوار کو دونوں فریقوں کی ملاقات کے بعد مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہونگے تاہم اتوار والے دن ملاقات کی منسوخ ہو گئی، ملکی سیاسی صورتحال ایسی رہی تو کاروباری دوسرے روز بھی مندی کے اثرات دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔

دوسری طرف امریکی ڈالر کے ریٹ میں استحکام دیکھا گیا، انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر 155 روپے 90 پیسے اور 156 روپے 10 پیسے کی سطح پر بند ہوا۔

Comments are closed.