1947ء سے جاری کشمیریوں کی نسل کشی کیخلاف دنیا بھر میں یوم سیاہ

سری نگر: دنیا بھر میں کشمیری برادری نے یوم شہدائے جموں وکشمیر منایا اور قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے ہزاروں کشمیریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، مشعال ملک کا کہنا ہے کہجو 1947 میں ہوا وہی 2019 میں ہو رہا ہے،کئی دہائیوں سے کشمیری قوم اپنے خون سے اس تحریک کو چلا رہی ہے۔

چھ نومبر1947 کو بھارت اور مہاراجہ ہری سنگھ کی افواج نے ہزاروں کشمیریوں کو بے رحمی سے شہید کرکے جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ جمایا تھا۔ یوم شہدائے جموں وکشمیر کے موقع پر مقبوضہ اور آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں۔ شہداء کی یاد میں خصوصی سیمینارز کا انعقادبھی کیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے کشمیریوں کے حق میں صدائے احتجاج بلند گئی۔

اس روز ڈوگرہ فوج نے سازش کے تحت پاکستان ہجرت کرنے والے جموں کے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ انہیں پاکستان پہنچانے کا دھوکا دے کر بچوں اور خواتین سمیت لاکھوں مسلمانوں کو نہایت سفاکی سے قتل کیا۔ 6 نومبر 1947 سے  شروع ہونے والا  کشمیریوں کا قتلِ عام آج تک جاری ہے۔

کئی دہائیوں سے کشمیری قوم اپنے خون سے آزادی کی تحریک چلا رہی ہے، مشعال ملک

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ چھ نومبر 1947 کو آر ایس ایس اور ڈوگرا کے غنڈوں نے جموں میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا اور کشمیر میں دنیا کی بدترین مذہبی نسل کشی کی گئی، چند مسلمان جان بچا کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے، اس وقت بھی یہ وہی خونی سرکار ہے، جس نے پوری کشمیری قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

مشعال ملک کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کے محاصرے کو تین ماہ سے زیادہ ہوگئے ہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں لوگوں کو یرغمال بنا کر بھوک اور پیاس سے مارا جارہا ہے،جو 1947 میں ہوا وہی 2019 میں ہو رہا ہے،کئی دہائیوں سے کشمیری قوم اپنے خون سے اس تحریک کو چلا رہی ہے۔

Comments are closed.