باباگرونانک کےجنم دن پر یاترا کیلئے10 ہزار ویزے جاری، پاسپورٹ کی شرط ختم

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے بابا گرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر یاترا کے لئے کرتار پور آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نوجوت سنگھ سدھو سمیت دنیا بھر سے 10 ہزار سکھ یاتریوں کو ویزے جاری ہو چکے ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ یاتریوں کے لیے اعلان کردہ ان تمام مراعات کے بارے میں بھارتی حکومت کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے پاکستان کی جانب سے سکھ زائرین کے لیے اعلان کردہ مراعات کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرتار پور میں دربار بابا گرونانک کی زیارت کے لیے بھارت سے پاکستان آنے والے یاتری اسی روز واپس اپنے ملک چلے جائیں گے۔ اس وقت یاتریوں کی متوقع تعداد 5 ہزار ہے لیکن امید ہے کہ اس سے زیادہ تعداد میں زائرین آئیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ مختلف ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں نے بھی ہزاروں سکھوں کو گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے ویزے جاری کیے ہیں یوں جاری کردہ ویزوں کی تعدد 10 ہزار ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ تقریبات میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر نوجوت سدھو کو ویزا جاری کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کرتارپور راہداری کے حوالے سے کسی قسم کی منفی سوچ کا سامنا کرنا نہیں چاہتا۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ  بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر پاکستان نے خصوصی طور پر کرتارپور آنے والے یاتریوں کے لیے پیکج تشکیل دیا ہے جس میں سکھ زائرین کے لیے ایک سال کے لیے پاسپورٹ کی شرط ختم کردی گئی ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان آنے والے زائرین کی فہرست 10 روز قبل فراہم کرنے اور 20 ڈالر کی سروس فیس میں 9 تا 12 نومبر تک کے لیے استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ پاکستان نے مقررہ وقت میں راہداری منصوبہ مکمل کیا جس کا افتتاح 9 نومبر کو کردیا جائے گا۔

مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وادی میں اب بھی بھارتی افواج کی جانب سے ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے جبکہ 98 روز گزرنے کے باجود مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن نہیں ہٹایا گیا۔انہوں نے امریکا کی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی ایشیا کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی اقدامات اور نئے نقشے صرف اورصرف آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازش ہیں اور پاکستان ان سیاسی نقشوں کو مسترد کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی حکومت پوری طرح ہندوتوا نظریہ پر عمل پیرا ہے۔

افغانستان میں پاکستانی سفارتکاروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ کابل میں سفارتخانے کے عملے کو ہراساں کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ سفارتکاروں کی گاڑیوں کو سڑکوں پر روک کر ہراساں کیا جاتا ہے جس پر پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر افغان حکومت سے احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ افغان حکومت پاکستانی سفارتکاروں کی سیکیورٹی بہتر بنائے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ایران کے معاملے میں مفاہمت کا عمل جاری ہے اور امید ظاہر کی کہ اس سے مثبت نتائج ملیں گے۔ علاوہ ازیں یمن میں جاری تنازع کے حل کے لیے سعودی عرب اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں موجود تناؤ اور کشیدگی میں کمی آئے گی۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایکشن پلان پرعمل درآمد کے بارے میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے کوششیں جاری ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا جائے گا۔

Comments are closed.