احتجاج کرنے والوں کی اگرشرط استعفیٰ ہے تو پھرمذاکرات کا کیا فائدہ؟ وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے، اگر احتجاج کرنے والوں کی شرط صرف استعفیٰ ہی ہے تو پھر ان سے مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟

وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی نے وزیراعظم عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور اپوزیشن بالخصوص جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے متعلق آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں ساتھ ہی انہوں نے 2018 کے عام انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بھی رضا مندی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ’’ کھلے دل سے احتجاج اور مارچ کی اجازت دی لیکن اگر شرط صرف استعفیٰ ہی کی ہے تو مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟‘‘۔

خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے اسلام آباد میں ‘آزادی مارچ’ جاری ہے جو ایک دھرنے کی شکل اختیار کرگیا ہے کیونکہ 8 روز سے شرکا وہاں موجود ہیں اور آئندہ کتنے دن وہاں موجود رہتے ہیں اس حوالے سے ابھی کچھ علم نہیں۔

آٹھ روز سے جاری اس آزادی مارچ میں اب تک کوئی ایسی اطلاعات سامنے نہیں آئیں کہ مارچ کے شرکا نے کسی املاک کو نقصان پہنچایا ہو۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں، نئے انتخابات کروائے جائیں اور اس میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو۔

تاہم وزیراعظم کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کے استعفے کے مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کیا جاچکا ہے جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم بھی یہ کہہ چکی ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر کوئی بات نہیں ہوگی۔

Comments are closed.