پی آئی سی پرحملہ افسوسناک ہےچیف جسٹس آف پاکستان

ویب ڈیسک

سستے انصاف کی فراہمی سے متعلق کانفرنس سے  خطاب کرتےہوئے چیف جسٹس پاکستان کاکہنا تھا کہ ایسا واقعہ ہونا المناک اور  بدقسمتی ہے، یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، یہ المناک سانحہ موقع دیتا ہے کہ اپنے اندر کاجائزہ لیں اور خود احتسابی کریں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی سی معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، اس پر زيادہ بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ان دونوں پیشوں سے عظیم اقدار وابستہ ہیں اور امید ہے کہ اچھی سوچ ہی غالب آئے گی۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس کے ذریعے تیز تر انصاف کو یقینی بنایا گیا، ماڈل کورٹس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، نظام میں رہتے ہوئے انصاف میں تاخیر کے عمل کو مختصر کیا لہٰذا ماڈل کورٹس کو کامیاب بنانے میں وکلاء اور ججز کے تعاون کا شکریہ اداکرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اپنی حالت خود بدلنے کا ہم نے ارادہ کیا اور نظام عدل میں تاخیر کے اسباب کی نشاندہی کی گئی، سب سے پہلے ہم نے مقدمات میں التواء دینا بند کیا، انگلینڈ میں کیس کی تاریخ ڈیڑھ سال کے لیے دی جاتی ہے اور جب کیس کی تاریخ آجاتی ہے پھر صرف وہی کیس سنا جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ گواہوں کو پیش کرنے کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے، ہم نے کہا مدعی کے بجائے پولیس اور ریاست گواہ پیش کرے گی، پہلے فیصلے کے بعد ججمنٹ لکھنے میں وقت لگتا تھا۔
خیال رہے کہ 11 دسمبر کو وکلاء نے لاہور میں دل کے اسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں خاتون سمیت 3 مریض بروقت علاج نہ ہونے پر انتقال کرگئے تھے جبکہ اِس حملے میں اسپتال میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی تھی۔
پولیس نے اب تک واقعے میں ملوث 83 وکلاء کو گرفتار کیا ہے جبکہ 46 وکلاء جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔
دوسری جانب وکلاء کی گرفتاری کے خلاف درخواست بھی لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور اگلی سماعت 16 دسمبر کو ہوگی۔

Comments are closed.