جمہوریت کا ٹِمٹماتا دیا بھی بجھ گیا۔۔۔؟؟

سردار عمران اعظم

سروسز ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور ہوا اور صدر مملکت کے دستخطوں کے بعد اب قانون بن چکا۔ یوں مسلح افواج کے تینوں سربراہان کی مدت ملازمت کی حد عمر میں اضافے کے ساتھ توسیع کا دروازہ بھی ہمیشہ کے لیے کھل گیا اور اسے آئینی تحفظ بھی مل گیا۔ سپریم کورٹ نے ماضی کی غلطیوں کی کسی حد تک ازالے کی کوشش کرتے ہوئے سیاستدانوں کو ایک دروزاہ کھول کر دیاکہ پارلیمان کی بالادستی قائم کر سکتے ہیں تو کرلیں۔عوام کے منتخب نمائندوں نے اپنے ہاتھوں سے دروازے کی جگہ دیوار بنا کر اسے ہمیشہ کے لیے بند کر دیا اور اس جرم میں حکومت کیساتھ نون لیگ اور پیپلز پارٹی برابر کی حصہ دار بنیں۔

حکومت سے کوئی شکوہ ہوسکتا ہے نہ کسی دور اندیشی یا سیاسی فہم و فراست کی امید، لیکن نون لیگ اور پیپلزپارٹی نے اپنے پاوں پر کلہاڑا کیوں مارا؟ ووٹ کو عزت دو، کا بیانیہ ، تاریخی یوٹرن میں کیونکر تبدیل ہوا، اینٹی اسٹیبلسشمنٹ سیاست کی داعی پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی نظریاتی احساس سے اس قدر منہ کیوں موڑ لیا؟ عوامی جذبات کا خیال رکھا گیا نہ ہی کارکنوں کا سوچا گیا؟اب سوال یہ ہے کہ کیا دونوں پارٹیوں کی قیادت کو اپنے کارکنوں کے جذبات کا احساس ہی نہ ہوایا مجبوریاں اتنی بڑی تھیں کہ بل کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ سامنے رکھیں تو نون لیگ کا مزاج ہی ایسا نہیں کہ زیادہ رگڑا برداشت کر سکے، بیٹی کی محبت اور اسے لیڈر بنانے کی کوشش میں میاں نواز شریف نے مریم نواز کی غلطیاں بھی اپنے کھاتے میں ڈالیں اور پھر ان پر ڈٹ گئے ، انہیں خود بھی یہ مرض لاحق ہوگیا کہ اب وہ بلا شرکت غیرے پاکستان کے مقبول ترین لیڈر بن چکے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لے کر نئی سیاسی معراج پا لیں گے ، مقتدر قوتیں پیچھے ہٹ جائیں گی اور وہ فاتح کا تاج اپنے سر سجا کر پھر اپنی بیٹی کو پہنادیں گے۔

چھوٹے بھائی صاحب اپنے بیٹے کے لیے پنجاب پر راضی ہوتے ہیں تو ٹھیک نہیں توان کی مرضی، پرویز رشید کے ساتھ نون لیگ کے لاہوری گروپ نے بھی مداح سرائی میں ہر حدپارکی، خوشامدیوں نے میاں صاحب کو ایسا شیشے میں اتارا کہ چوہدری نثار علی خان کے حقیقت پر منبی مشوروں نے انہیں غداروں کی صف میں کھڑاکر دیا اور پھر ان کے لیے پارٹی میں بھی جگہ نہ رہی۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی سب جمع تفریق دھر ی کی دھر ی رہ گئی اور پورا ٹبر جیل کی سلا خیوں کے پیچھے جا پہنچا،مجھے کیوں نکالا،، کا رونا دھونا کام آیا نہ ووٹ کو عزت دو ، کا راگ عوام کے دلوں کو پسیج سکا۔

آخر کار چھوٹا بھائی ہمیشہ کی طرح پھر حرکت میں آیا، رات کے اندھیروں اور پردے کے پیچھے ملاقاتوں کے پے درپے دور چلے، شریف خاندان توبہ تائب ہوا، سب نے مل کر‘گستاخیاں معاف ہوں’ کا سُر لگایا، تب جا کر دیوتا کو رحم آیا اور التجاوں کو شرف قبولیت ملا۔ اس کے ساتھ ہی میاں برادران کے بُرے دن ختم ہوگئے، البتہ شاہد خاقان عباسی ،خواجہ برادران اور رانا ثناء اللہ کو یہ باور کروانے کی ٹھان لی گئی کہ آپ کے ساتھ ایک بار پھر ہاتھ ہوگیااور آپ کی فصلیں بھی اجاڑنے والے طوطے معافی نامہ لے کر اڑ چکے ۔

میاں صاحب جو ایک مجرم بن کر جیل میں سزا بھگت رہے تھے، اچانک ان کو پلیٹ لیٹس کی کمی کا خطرناک مرض لاحق ہوگیا، کمال یہ کہ کئی دنوں تک ماہر ڈاکٹرز کی سرتوڑ کوششوں کے باجود یہ نہ پتا چل سکا کہ پلیٹ لیٹس کم کیوں ہو رہے ہیں؟ نون لیگ کے کارکن البتہ اس مخمصے میں رہے کہ میاں صاحب کو سنگین مرض لاحق ہوگیا اور حکومت نے ڈر کر انہیں چھوڑ دیاکہ کہیں گلے نہ پڑ جائیں، ورنہ میاں صاحب جیل میں مر سکتے تھے لیکن پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے۔

ذرائع کے مطابق کارکنوں کو کیا خبر تھی کہ جانے سے پہلے شہباز شریف کی طاقت کے مرکز میں طویل ملاقات ہوئی شہباز شریف نے کہاکہ کپتان قبول نہیں ، اس سے ملک نہیں چلے گا،شاہ محمود قریشی یاکسی اور کو وزیر اعظم بنا دیں ،ساتھ دیں گے ؟ پنجاب، بزدار جیسے لوگوں کے ہاتھوں تباہ نہیں کروا سکتے ، آپ بھی یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں؟ پرویز الہیٰ کو وزیراعلیٰ بنا دیں تو بھی ساتھ دیں گے۔ اس سب کا ایک ہی جواب ملا، ہمیں وقت دیں اور مارچ تک مکمل خاموش رہیں؟ اور پھر شریف بردارن کےجہاز نے اڑان بھرلی اور مریم نواز رائیونڈ محل میں ہنسی خوشی رہنے لگیں۔

نئے عہد و پیماں کی پاسداری ہوئی اور نون لیگ کے یوم تاسیں پر بھی مکمل سناٹا چھایارہا۔ووٹ کو عزت دو کی صدا سنائی دی گئی نہ ہی پلیٹس کی کمی کی کوئی خبر آئی ۔ اب اس کے بعد نون لیگ کے کارکنان کی یہ توقع کہ ان کی قیادت ترمیمی بل پر کوئی انقلابی فیصلہ کرے گی ، خام خیالی ہی ہو سکتی تھی ۔

اب آتے ہیں پیپلز پارٹی کی جانب جو زرداری سینڈروم کا شکار ہو چکی ہے، مرض ہے کہ اس کا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہا، بلاول بھٹو دن رات محنت کے بعد پیپلز پارٹی کی چہرے پر لالی لانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ا چانک آصف زرداری ، اپنی عقل و دانش کا منتر پھر سے پھونک دیتے ہیں اور پیپلزپارٹی سکتے میں آجاتی ہے ،سروسز ایکٹ ترمیمی بل پر بھی یہی ہوا۔

کراچی میں آصف علی زرداری کی موجودگی میں میٹنگ ہوئی تو بستر علالت پر بھی زرداری صاحب کی سیاسی پنڈت والی رگ پھڑک اٹھی ،ماضی میں بھٹو صاحب کے کچھ فیصلوں کے حوالے دیکر بلاول بھٹو کو قائل کرنے کی کوشش کی ،مولا بخش چانڈیو نے بھی زرداری صاحب کے سامنے نمبر ٹانگے اور ہاں میں ہاں ملائی ،لیکن بلاول بھٹو نہیں مانے۔۔۔۔کہا ، ہم اس بل میں اپنی ترامیم پیش کریں گے، یہاں تک فیصلہ ہوگیاکہ یہ ترمیم بھی پیش کی جائے گی کہ اگر وزیر اعظم کو آرمی چیف کی تقرری اور توسیع کا اختیار ہے تو کسی بھی وقت برطرفی کا اختیار بھی ہونا چاہیے۔

 بلاول بھٹو کی ایوان میں تقریر کے چیدہ چیدہ نکات بھی زیر بحث آگئے جس میں بحیثیت ادارہ فوج کے وقار کو اولیت حاصل تھی ، پھر ایسی ہوا چلی کہ اس کے آگے بلاول بھٹو کی بھی ایک نہ چلی ،پیپلزپارٹی نے اپنی پیش کردہ تمام ترامیم بھی واپس لے لیں اور یوں پیپلز پارٹی کی اپنے اصل کو لو ٹنے کے خواب جیالے رہنماوں اور کارکنو ں کے دلوں میں ہی دم توڑ گئے۔

 پیپلز پارٹی اس بل کی دوٹوک مخالف نہ بھی کرتی تو باعزت ضرور ہو سکتی تھی اور اس کے کئی راستے موجود تھے لیکن بلاول بھٹوکے راستے میں پھر کانٹے بو دئیے گئے جنھیں چننے کی وہ کوشش کر رہے تھے ۔کارکن نئے چئیرمین میں امید کی کرن دیکھ رہے تھے ، پی ایس ایف اور پی وائی او کے نوجوان پر عزم قائد کے شانہ بشانہ جدوجہد کے لیے پھر سے مورچہ زن ہو رہے تھے ،سرخ، سرخ لہرانے اور عوام کے حق حکمرانی کے نعرے پیپلزپارٹی کے جلسوں میں گونجنے لگے تھے لیکن پھر مصلحت اور خوف آڑے آگیا۔

شیخ رشید سے ایک بار کسی صحافی نے پوچھا، آپ تو پکے ہی حق کی راہ سے توبہ ،تائب ہو گئے،جواب ملا، اب جیل کی سختیاں برداشت کرنے کی جان رہی نہ عمر ۔بلندو بانگ دعووں کے باجود پیپلز پارٹی کیساتھ بھی یہی ہوا کہ زرداری صاحب اپنے ہاتھوں سے آزادی کاپروانہ پھاڑ کر دوبارہ جیل جانے کا حوصلہ نہ کرسکے۔

اب پیپلز پارٹی کی قیادت کس طرح اپنے کارکنان کا سامنا کرے گی؟ پنجاب میں پیپلزپارٹی کو زندہ کرنے کے لیے دن رات ایک کرتے قمرالزمان کائرہ اور چوہدری منظور اب جیالوں کوکیا جواب دیں گے ؟ رضا ربانی اپنی آئین اور جمہوریت پسندی کے حق میں کیا دلائل پیش کریں گے، فرحت اللہ بابر میڈیا کے سامنے پیپلز پارٹی کی ترجمانی کا علم کیسے تھام کے رکھیں گے؟

اس کے لیے مارچ تک کا انتظارکریں،لیکن سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کے کارکنان کا سخت اور دوٹوک ردعمل بتا رہاہے کہ پیپلزپارٹی نے گھاٹے کا سودا کیا۔نون لیگ تو اپنے اصل کولوٹ گئی،پیپلز پارٹی کے فیصلے نے بلاول بھٹو زرداری اور جیالوں کے درمیان ایک بار پھر بد گہمانی کی نئی خلیج حائل کر دی ۔

Comments are closed.