پرویز مشرف نے غداری کیس میں سزائے موت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

اسلام آباد: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، سابق صدر کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالت میں ’سلیکٹیو پراسیکیوشن‘ ہوئی، ایمرجنسی نفاذ کے سہولت کاروں کو ٹرائل کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ خصوصی عدالت کی تشکیل غیر قانونی ہے، سزا کالعدم قرار دی جائے۔

لاہور ہائیکورٹ سے ریلیف ملنے کے بعد سابق آرمی چیف و صدر پرویز مشرف نے عدالت عالیہ کے فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل غیرقانونی قرار دے دی گئی ہے۔

درخواست میں پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج میں بطور فورسٹار جنرل کام کیا، دور صدارت میں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچے پاکستان کی معیشت کو بحال کی گیا، درخواست گزار کے دور میں بھارت کے ساتھ امن عمل بڑھانے کیلئے اقدامات کئے گئے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اتحادی بننے سے پاکستان دنیا میں نمایاں ہوا،  درخواست گزار نے کوئی کام بھی ملکی مفاد کے خلاف نہیں کیا۔

Activity - Insert animated GIF to HTML

درخواست کے مطابق پرویز مشرف عدالتی اجازت کے ساتھ بیرون ملک گئے جہاں بیمار ہو گئے، حکومت نے جلد بازی اور بغیر قانونی طریقہ اپنائے ان کے خلاف سنگین غداری کا کیس تیار کیا، اس حوالے سے خصوصی عدالت کی تشکیل اورججز کی تعیناتی قانون کے مطابق نہیں کی گئی، حکومت نے کسی مرحلہ پر بھی کابینہ کی منظوری نہیں لی جب کہ استغاثہ نے قانونی تقاضوں کو پورا کئے بغیر ہی کیس دائر کیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ  پرویز مشرف کے خلاف مبینہ آئینی جرم کا ٹرائل غیرقانونی طریقے سے چلایا گیا، خصوصی عدالت میں ’سلیکٹیو پراسیکیوشن ‘ ہوئی، ایمرجنسی کی اعانت کرنے والے اور سہولت کاروں کو ٹرائل کا حصہ نہیں بنایا گیا، اس حوالے سے دی گئی درخواست کو نظر انداز کرکے خصوصی عدالت نے ٹرائل مکمل کیا۔ جب کہ بحیثیت ملزم فیئر ٹرائل کے حق سے بھی محروم رکھا گیا۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی خصوصی عدالت سے غیر حاضری جان بوجھ کر نہیں تھی، پرویز مشرف علالت کے باعث خصوصی عدالت میں پیش نہ ہوسکے، ان کی بیماری کے عذر کوخصوصی عدالت نے بھی تسلیم کیا۔پرویز مشرف کی اپیل انکی غیر حاضری میں پزیرائی کے قابل ہے، محترمہ بینظیر بھٹو کی اپیل کو بھی سپریم کورٹ نے غیر حاضری میں پزیرائی دی۔

پرویز مشرف کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سنگین غداری کیس خصوصی عدالت کی جانب سے سزائے موت کے فیصلے اوراس میں استعمال زبان نے سابق صدر، سابق آرمی چیف اور پوری قوم کے لیے برا تاثر دیا، استغاثہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ سپریم کورٹ خصوصی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

Comments are closed.