کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس اس تنازعے پرعالمی تشویش ظاہر کرتا ہے، عائشہ فاروقی

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بار پھر زیربحث آنا اس تنازعے پر دنیا کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے، سیکورٹی کونسل نے بھارت سے کرفیو اٹھانے اور انسانی حقوق کی پامالیاں ختم کرنے پر زور دیا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 164 دن گزرنے کے بعد سلامتی کونسل میں دوسری مرتبہ اس مسئلے کو زیر بحث لایا گیا، ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی بحث میں سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکین نے حصہ لیا، سیکورٹی کونسل نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کو علاقائی کشیدگی میں اضافہ کی وجہ قرار دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں تنازعہ کشمیر پر بحث میں پی فائیو سمیت دیگر ممالک نے مقبوضہ وادی کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا، اس اجلاس نے ثابت کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی فہرست میں ہے، وزیرخارجہ نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے صدور سے بھی ملاقاتیں کیں۔

عائشہ فاروقی نے بتایا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے جنوبی ایشیا میں تنازعات اور مسائل کا مذاکرات کے زریعہ حل نکالنے اور امن کے فروغ کی بات کی، شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے مسلسل جارحانہ رویہ علاقائی امن کیلئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اجلاس میں کشمیر کو پھر متنازعہ تسلیم کیا گیا اور بھارت سے کرفیو اٹھانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم کرنے پر زوردیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطے کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے، پاکستان کا واضح موقف ہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، انہوں نے بتایا کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مصالحتی عمل زلمے خلیل زاد نے گزشتہ ہفتے پاکستان آنا تھا مگر وہ نہیں آ سکے، تاہم امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز جلد پاکستان کا دورہ کریں گی۔

عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کرتا ہے، امید ہے کہ پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے مطالبے پر طالبان کی آمادگی کے بعد امن معاہدے میں مزید پیش رفت ہوگی، پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ مختلف ممالک میں دس ہزار پاکستانی قید ہیں، جن کی رہائی اور انہیں قانونی معاونت فراہم کرنے کیلئے پاکستانی مشنز متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں۔

Comments are closed.